 |
| انڈونیشاکے جزیرے بالی میں ماحولیاتی کانفرنس |
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس کے مندوبین چین کی تعریف کررہے ہیں۔ انڈونیشاکے جزیرے بالی میں جاری اس کانفرنس کو دوروز ہوچکے ہیں۔
شرکاء کا کہناہے کہ چین کے وفد نے اس نئے بین الاقوامی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی حدود متعین کرے گا۔ یہ گیسیں ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین دولت مند ملکو ں سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید کمی کریں اور ترقی پذیر اور غریب ملکوں کو نئی صاف ٹیکنالوجی فراہم کریں۔
لیکن چین اور دوسرے ترقی پذیر ملک امکان ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں زیادہ حدکی لازمی پابندی کو مسترد کردیں۔ امریکہ اور جاپان کا بھی یہی موقف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کوئی لازمی اہداف ان کی انفرادی معیشتوں کونقصان پہنچائیں گے۔
امریکی وفد کے سربراہ ہرلان واٹسن نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدہ ماحولیاتی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے فائدہ مند ہونا چاہئیے۔
تقریباً 190 ممالک کے مندوبین انڈونیشا کے اس تفریحی جزیرے میں 1997ءکے کیوٹوپروٹوکول متبادل کے متبادل معاہدے پر مذاکرات کررہے ہیں۔ کیوٹو پروٹوکول کی مدت 2012ءمیں ختم ہوجائے گی۔