 |
|
بالی میں بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس |
اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام انڈونیشیا میں جاری ماحول کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس میں گیسوں کے اخراج میں کمی کے بارے میں ایک متفقہ مسودہ تیار کیا جارہا ہے، جبکہ امریکی وفد کی کوشش ہے کہ اس میں کوئی حتمی ہدف نہ دیا جائے۔
امریکہ کے وفد کے سینئر مذاکرات کار ہارلین واٹسن نے آج پیر کے بتایا کہ امریکہ معاہدے میں کسی بھی قسم کی تعداد کے تعین کی مخالفت کرے گا۔ واٹسن کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے کیوتو معاہدے کے متبادل معاہدے کے لیے اگلے دو سال جاری رہنے والے مذاکرات کے عمل کے نتائج کو قبل از وقت جانچنے کے مترادف ہوگا۔
کانفرنس میں شامل 190 سے زیادہ ملکوں کے نمائندے ایک ایسے مسؤدے پر پہنچنے کے لیے کوشاں ہیں جس کی پابندی لازم نہ ہو اور اس میں صنعتی ملکوں سے کہا جائے کہ وہ 2020ء تک گیسوں کی اخراج میں 25 سے40 فی صد تک کمی کریں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے ترقی پزیر ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ گیسوں کے اخراج کے سلسلے میں مزید ذمّے داریاں قبول کریں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج پیر کے دن بنکاک میں اقوامِ متحدہ کے حکام سے کیا۔ بان گی مون کانفرنس میں شرکت کے لیے بالی جارہے ہیں۔
آج کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ امریکہ میں دسمبر 2008ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد امریکی مؤقف میں کچھ تبدیلی آئے۔ تاہم نئے معاہدے میں چین اور بھارت جیسے ترقی پزیر ملکوں کے گیس کے اخراج کے معاملے کو درست کرنا ہوگا۔
توقع ہے کہ جمعے کے روز ایک ایسے معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں گے، جس میں آئندہ دو برسوں پر محیط مذاکرات کے لیے لائحہٴ عمل کا تعین کیا جائےگا۔