اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام انڈونیشیا میں جاری ماحولیات سے متعلق کانفرنس میں گفت و شنید اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا گرین ہاؤ س گیسوں کے اخراج کو ماحول سے متعلق نئے معاہدے میں ہدف بنایا جائے یا نہیں ۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیات سے متعلق ادارے کے سر براہ یووو ڈی بوئر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ موجودہ مسؤدے کے متن میں گیسوں کے اخراج کے اہداف میں 25 سے 40 فیصد تک کمی شامل ہے لیکن اس کی پابندی لازمی نہیں ہے اور اس کا مقصد محض راہنمائی فراہم کرنا ہے ۔
امریکہ کے علاوہ جاپان اور کینیڈا دستاویز میں گیسوں کے اخراج کے اہداف کو مسترد کر تے ہیں۔
یورپی یونین اور بہت سے ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر ترقی پذیر اقوام ماحول میں تبدیلی کے خلاف جدو جہد کی قیادت کرنا چاہتی ہیں تو گیسوں کے اخراج کے اہداف ضروری ہیں۔
لگ بھگ 190 ملکوں کے اعلیٰ عہدے دار مذاکرات کے کلیدی مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے بدھ کے روز اعلی ٰ سطحی اجلاس میں شرکت کر یں گے ۔
مندوبین کی کوشش ہے کہ جمعے کے روز سر براہی اجلاس کے اختتام تک کسی ایسے معاہدے پر دستخط ہو جائیں جس سے کیوٹو پروٹوکول کی جگہ لینے والے معاہدے پر اگلے دو سال کی گفت و شنید کے لیے لائحہ عمل طے ہوجائے۔
1997ءکے کیوٹو پروٹوکول کو امریکہ نے مسترد کر دیا تھا۔ اس میں 36 صنعتی ملکوں سے یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ وہ 2012ءتک گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں 1990ءکی سطح سےپانچ فیصد تک کمی کریں۔