Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

ماحولیاتی تپش: 2007ء اچھا سال ثابت ہوا

December 16, 2007

A farmer waits for rain on his drought hit paddy field in Morigoan in India’s northeastern state of Assam (File)

بھارت کے صوبے آسام میں خشک سالی

آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی کانفرنس بالی میں ختم ہو گئی۔ کانفرنس کی مدت میں ایک روز کا اضافہ کیا گیا تا کہ کسی سمجھوتے کے بارے میں مفاہمت ہو سکے ۔ بالآخر امریکہ اگلے دو برسوں کے دوران مذاکرات کے کئی راوٴنڈزپر رضامند ہوگیا جو 2009ء میں مکمل ہوں گے۔

 

 اِس سال کے شروع میں، اقوامِ متحدہ کے International Panel on Climate Change نے کئی رپورٹیں جاری کیں جن میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بلا شبہ انسانی سرگرمیوں سے دنیا کی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

دنیا میں حدت کے اضافے کو ختم کرنے کے کوششوں کے لحاظ سے 2007ء انتہائی اہم سال تھا ۔ Pew Center on Global Change کی صدر آئلین کلاسن کہتی ہیں کہ یہ وہ سال تھا جب اِس مسئلے کے بارے میں دنیا کے رویے میں اہم تبدیلیاں آئیں۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم نے سب کچھ طے کر لیا، لیکن اِس لحاظ سے کہ ہمیں کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے، اِس سال شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

 

اِ س سال کی ابتدا U.S. Climate Action Partnership کی تشکیل سے ہوئی۔ یہ تنظیم 27 امریکی کمپنیوں اور چھہ عوامی بھلائی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا اتحا د ہے جن کاکہنا ہے کہ ہمیں ایک ایسے لازمی قومی پروگرام کی ضرورت ہے جس کا ہدف یہ ہو کہ امریکہ میں 2050ء تک گرین ہاؤٴس گیسوں کے اخراج میں ساٹھ سے نوے فیصد تک کمی ہو جانی چاہیئے۔

 

 پھر دسمبر کے اوائل میں آب و ہوا کی تبدیلی کے موضوع پر بالی میں اقوامِ متحدہ کی جو کانفرنس ہوئی اس میں اِس اتحاد کے ارکان نے ایک بار پھر نہ صرف اپنے عہد کو دہرایا بلکہ 2050ء تک گرین ہاوٴس گیس کے اخراج کو 90 فیصد تک کم کرنے کے مصمم عزم کا اظہار کیا۔

 

کلاسن کہتی ہیں کہ یہ ایک اہم اقدام ہے کیوں شروع میں صنعتی شعبے نے آب و ہوا کے بارے میں کیوٹو سمجھوتے کے تحت ایسے وعدے کرنے سے انکار کر دیا تھا جن کی پابندی ان کے لیے لازمی ہو:

 

’بہت بڑی تعداد میں کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر گرین ہاوٴس گیسوں کے اخراج کے ہدف مقرر کر لیے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے انھوں نے گیسوں کے اخراج کی پیمائش کی اور پھر یہ معلوم کیا کہ وہ کِس حد تک ان میں کمی کر سکتی ہیں۔ ٹکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی نظریں اب ایک ایسی دنیا پر ہیں جس میں کاربن کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی ۔ اب بہت سی کمپنیاں ان توقعات کو پورا کرنے کے لیئے، جو گرین ہاوٴس گیسوں کو کم کرنے کے سلسلے میں ان سے وابستہ کی جا رہی ہیں، نئی ٹکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔‘

 

کلاسن کہتی ہیں کہ امریکی وفاقی حکومت نے تواِس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے لیکن کئی امریکی ریاستوں نے پہل کی ہے۔ فروری میں سات امریکی ریاستوں اور کینیڈا کے دو صوبوں کی کانفرنس ہوئی جسے Western Climate Initiative کا نام دیا گیا۔

 

 پھر ایک اور اہم خبر آئی۔ چھہ امریکی ریاستوں اور کینیڈا کے ایک صوبے کے درمیان وسط مغربی علاقے کے لیے گرین ہاؤٴس گیس کے بارے میں ایک سمجھوتا ہوا۔ اگر یہ وسط مغربی علاقہ کوئی ملک ہوتا، تو امریکہ، چین، بھارت اور روس کے بعد یہ دنیا کا کاربن پیدا کرنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک ہوتا۔ وسط مغربی علاقے کے اِس سمجھوتے میں دنیا میں گرمی کم کرنے کے بڑے حوصلہ افزا اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔اِس کے تحت رکن ممالک کو توانائی کے بہتر استعمال، اور حیاتیاتی ایندھن مثلاً پودوں اور نباتات سے زیادہ توانائی حاصل کرنا ، اور کوئلے سے چلنے والے کارخانوں کے لیئے کاربن کے بخارات کو ماحول میں شامل ہونے سے پہلے جمع کرنا اور انہیں محفوظ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 

 توقع ہے کہ 2030ء تک یہ علاقہ اپنی ضرورت کی توانائی کا 30 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے لگے گا۔

اِسی قسم کا پیغام اکتوبر کے آخر میں پرتگال کے شہر لزبن سے ملا۔ اِس شہر میں یورپی ملکوں، نیو زی لینڈ، اور کئی امریکی ریاستوں اور کینیڈا کے صوبوں نے متحد ہو کر ایک تنظیم، International Carbon Action Partnership تشکیل دی

 

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے وزیرِ اعلی گورڈن کیمپبیل اور امریکی ریاست نیو جرسی کے گورنر جان کورزین اِس سمجھوتے پر دستخط کرنے کے لیے پرتگال آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اِس سمجھوتے سے انہیں کاربن کے بخارات اور گرین ہاوٴس گیسوں کو کم کرنے کی کوششوں کو مربوط کرنے کا ایک اور موقع ملا ہے۔

 

امریکی کانگریس میں کاربن کے بخارات کی حد مقرر کرنے کے لیئے ایک قانون پر غور ہو رہا ہے ۔ وائٹ ہاوٴس نے اِس قسم کی حد پر لازمی طور پر عمل کرنے کی پابندی کی کُھل کر مخالفت کی ہے اور اس کے بجائے وہ بخارات میں رضاکارانہ طور پر کمی کرنے کا حامی ہے۔

 

آئیلین کلاسن کہتی ہیں کہ شاید اِس قسم کے قانون کے لیئے ہمیں جنوری 2009ء  میں نئے امریکی صدر کے حلف اٹھانے تک انتظار کرنا پڑے۔وہ کہتی ہیں کہ انتظامیہ میں تبدیلی سے امریکہ کے لیئے زیادہ اچھی شرائط پر سمجھوتے کے لیئے مذاکرات میںآ سانی ہو گی جو 2012ء میں کیوٹو پروٹوکول کے ختم ہونے کے بعد نافذالعمل ہوگا:

 

’کاربن کا اخراج کرنے والے تمام بڑے بڑے ملکوں کی طرف سے اپنے وعدوں کی پابندی کا تصور واضح طورپر زیرِ بحث آنا چاہیئے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور بالی کے بعدجب کبھی کسی نئے سمجھوتے کے لیے مذاکرات ہوں، ان میں سے اسے خارج نہیں کیا جانا چاہیئے۔‘

 

کلاسن کہتی ہیں کہ دو واقعات سے 2007ء میں حوصلہ افزا رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے۔ پہلا واقعہ تو یہ ہے کہ 2007ء وہ سال تھا جب آب و ہوا میں تبدیلی کی بنیاد پر، ایک امریکی ریاست نے کوئلے سے چلنے والے بجلی کے کارخانے کے پرمٹ کی درخواست مسترد کر دی۔ دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ 2007ء میں 80 ملکوں کے سربراہ اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس میں حاضر ہوئے اور انھوں نے اعتراف کیا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے پر فوری اقدام کرنا ضروری ہے ۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک

  مزید خبریں
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
وفاقی وزیر قانون کی بھارتی قیدی سے جیل میں ملاقات
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
’تیری یاد آ گئی، سو چراغ جل گئے‘ ۔۔۔ مسعود رانا کی یاد میں
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
بھارتی کشمیر میں کرفیو، گرفتاریاں مظاہرے
اپوزیشن کی طرف سے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا خیر مقدم
ایران میں سفارتی مشن کا قیام زیرغور ہے: کانڈولیزارائس
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
روس نے جنوبی اوسیتیا کے علاقے سے اپنی چوکی ختم کردی
ماؤنٹ ایورسٹ پر پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانے کا عالمی ریکارڈ
پیلین کی جانب سے اوباماپر دہشت گردوں سے تعلقات کا الزام
برما میں سیاسی قیدیوں کی تعداد 2100 سے زیادہ ہوگئی
نائجیریا میں تیل  کمپنیوں کے اغوا شدہ 19 کارکن رہا
عراق میں امریکی چھاپے کے دوران عسکریت پسندوں سمیت11 افراد ہلاک
کانڈولیزارائس قراقستان پہنچ گئیں
طالبان کا مشتبہ اعلی کمانڈر گرفتار
بھارت امریکہ غیر فوجی جوہری تعاون معاہدے پر صدر بش جلد دستخط کر دیں گے:وزیر خارجہ رائس
بغداد میں دو امریکی ہیلی کاپٹر ٹکرا کر تباہ ہو گئے
بھارتی کشمیر میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کر دیا گیا
اوباما، مک کین انتخابی مہم کی انتخابی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں
قیام امن تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی:صدر زرداری
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ آٹھویں قسط: اے حرمِ قرطبہ
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
کیا امدادی بل امریکی معیشت کی بحالی میں مدد دے سکتا ہے؟  Video clip available
واشگٹن ڈی سی میں عید کا سب سے بڑا اجتماع اسلامک سینٹر میں ہوتا ہے  Video clip available
امریکہ میں چاند رات کی گہماگہمی  Video clip available