وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکہ بالی کانفرنس کے اس متفقہ فیصلے کی تائید کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بالی کانفرنس اس منصوبے کی جانب پہلا اہم قدم ہے جو 2012ء میں ختم ہونے والے کیوتو معاہدے کی جگہ لے گا۔
تاہم وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ اس تحریری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اس امر پر گہری تشویش ہے کہ جب تک ہر ملک کے منفرد حالات اور ہر ملک کےاپنے اقتصادی ترقی کے حق کو پیش نظر رکھ کر مذاکرات کو آگے نہ بڑھایا گیا، اس وقت تک کوئی بھی معاہدہ پوری طرح سے موثر نہیں ہوگا۔
دوسری طرف یورپی یونین نےبالی معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی وفد کے لیڈر ہمبرٹو روسا نے کہا ہے کہ ہم نے وہی کچھ حاصل کر لیا ہے، جو ہم چاہتے تھے۔