ایشیا کی بیشتراسٹاک مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں بدھ کے روز تیزی سے اضافہ ہوا جب کہ سرمایہ کاروں نے منگل کے روز امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ہنگامی کمی کا خیر مقدم کیا ہے۔
منیلا ، سڈنی ، شنگھائی اور ٹوکیو میں اسٹاک کے انڈیکس دو اور چار فیصد پر بند ہوئے جب کہ ہانگ کانگ کے ہانگ سینگ کے انڈیکس میں اضافہ ہو اجو لگ بھگ 11فیصد پر بند ہوا۔ یہ مارکیٹیں دو روز تک شدید انحطاط کا شکار رہی تھی۔
تاہم بڑی یورپی مارکیٹیں آج بدھ کے روز کے کاروبار میں مندی کا شکار رہے۔ پیرس کا اہم اشاریہ چار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا، جب کہ فرینکفرٹ کا اشاریہ لگ بھگ پانچ فی صد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
امریکی سنٹرل بنک نے منگل کے روز بنیادی شرح سود میں پون فیصد تک کمی کر دی تھی جو 11ستمبر 2001ءکے دہشت گرد حملوں کے بعد سے بینک کی طرف سے شرح سود میں پہلی غیر طے شدہ کمی تھی۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے شرحِ سود میں کمی مناسب اور مفید تھی۔ لیکن آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کی افزائش میں نمایاں سست روی اس سال بھی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ بڑے انڈیکسوں میں کمی کے ساتھ بند ہوئی جبکہ بیشتر یورپی اسٹاک مارکیٹیں حصص کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ بند ہوئیں۔
صدر بش اور امریکی قانون ساز معیشت کو متحرک کرنے کے لیے 145 ارب ڈالر کے مجوزہ پیکج پر گفت و شنید کررہے ہیں۔
صدر بش نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ انتظامیہ اور کانگریس کوئی مشترکہ بنیاد تلاش کرسکتی ہیں اور جلد ہی کسی معاہدے تک پہنچ سکتی ہیں۔انہوں نے یہ بات منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں کانگریس کے اہم لیڈروں کے ساتھ ایک اجلاس میں کہی۔