 |
|
دبئی میں کڑاکے کی سردی؟ |
آج کل دبئی میں سردی پڑ رہی ہے، دبئی میں سردی اور وہ بھی فروری میں؟ یہ نہیں ہو سکتا ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، دبئی تو صحرا کے بیچوں بیچ بسا ہے، بھلا یہاں کہاں سردی؟ یہاں تو دسمبر جنوری میں کوئی سویٹر پہن لے تو لوگ اس کو دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔
جو لوگ دبئی کو جانتے ہیں، وہ ضرور اس سردی والی بات کو مذاق ہی سمجھیں گے کیونکہ فروری میں دبئی اور اس خطے کے دیگر علاقوں میں گرمی شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ اس خطے میں دو ہی موسم ہوتے ہیں، یعنی گرمی اور بہت گرمی!
اب ایسا کیا ہوا کہ یہاں بدن کو کاٹتی تیز ہوا صبح کے وقت مزاج پوچھتی ہے اور سردی صندوقوں میں دفن گرم کپڑے باہر نکال کرپہننے پر مجبور کر دیتی ہے۔
یقیناً کچھ ہوا تو ہے۔ تبدیلی کی کوئی ہوا بہت آہستہ سے چلی ہے،جس نے اچانک موسم کو یرغما ل بنا لیا ہے۔میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ موسم تو چاروں تبدیل ہو رہے ہیں لیکن موسم کے عالمی اثر پذیری کو صرف گلوبل وارمنگ کا نام دیا جا رہا ہے ۔گویا سردی بیچاری کسی قطار شمار میں نہیں گنی جا رہی۔
ویسے سردی کا موسم بھی عجیب ہے۔ باہر کا گرتا ہوا درجہٴ حرارت انسان کے اندر حدت پیدا کر دیتا ہے۔ فزیکل تبدیلی کے ساتھ دماغ میں محوِخواب تخیل کےسوتے بھی پھوٹ پڑتے ہیں۔ نئی سوچ نئی ترنگ نئی توانائی کے ساتھ انگڑائی لے کر بیدار ہو جاتی ہے۔ ہوتا سب کے ساتھ ایسا ہی ہے, لیکن کچھ اس تبدیلی کو سمجھ لیتے ہیں او ر دوسرے سر کو جھٹک کر روز مرہ کے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔
ان کی بلا سے اندر کا موسم کیسا بھی ہو، ان کو صرف باہر کے موسم کی فکر ہوتی ہے۔ فکرِمعاش ،عشقِ بتاں یادِ رفتگاں۔زندگی دو دن کی اور اس میں کرنے والے کتنے کام،ایسے میں کون سرد موسم میں اپنے اندر بیدار ہوتی احساس کی نئی ترنگ کو لفٹ کراتا ہے۔
(2)
شعیب بن عزیز کا شعر ہے:
جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اثر دوطرفہ ہوتا ہے اور باہر کا موسم بھی انسان کی اندر کی کیفیات کو متاثر کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ اورنفسیات کے ماہرین تو کہتے ہیں کہ ہر موسم کا اپنا رنگ اپنا روپ سروپ اور انسانی ذہن پر اپنا منفرد اثر ہوتاہے۔
موسم کا یہ اثر ہر عمر کے انسان پر چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہو،یکساں نوعیت کا پڑتا ہے۔لیکن یہ الگ بات کہ ہم میں سے اکثر اس بات کا ادراک نہیں رکھتے کہ ہمارے احساس کے تار کبھی ڈھیلے کیوں پڑ جاتے ہیں اور کبھی ان سے وائلن کے تاروں جیسی موسیقی کیوں نکلنے لگتی ہے۔
بات آسان ہے جیسے تما م انسانوں کی سوچ ، فکر اور وجدان، ایک جیسا نہیں ،ایسے ہی ان کی صلاحیتیں اور سمجھ بھی مختلف ہے۔
اس لیے ہر انسان اپنے باہر ہونے والی موسمی تبدیلی کا اثر تو فورا قبول کرلیتا ہے لیکن اپنے اندر کے موسم میں ہونے والی تبدیلیاں بعض اوقات اس کے لیے معما بن جاتی ہیں۔
یہ اندر کا موسم کبھی یہ ہم کو خوش باش کرتا ہے تو کبھی اداسی کا بہانہ بن جاتا ہے ۔ کبھی خود بہ خود طبیعت میں شوخی مچلنے لگتی ہے اور کبھی خوشی کی بات سن کر بھی آنکھ بھر آتی ہے۔ انسانی نفسیات کے ماہرین ہمارے اندر ہونے والی اس موسمی تبدیلی کو ’موڈ سوئنگ‘کہتے ہیں۔
انسانی رویے میں پیدا ہونے والی ہرمثبت تبدیلی کا اچھا اثرصرف اس انسان ہی پر نہیں پڑتا بلکہ اس کے اطراف میں موجود لوگ بھی اس کے مثبت اثر کو قبول کرتے ہیں،بلکہ اس سے اثر بھی لیتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ اپنے اندر کے موسم کی تبدیلیوں کو ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے ان کے رویے میں پائی جانے والی کجی کو بھی بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے اور جس طرح مثبت رویہ انسان کے گرد و پیش موجود لوگوں اور ماحول کو مثبت تاثر دیتا ہے ، بالکل اسی طرح منفی رویہ اپنی طاقت کا اظہار ضرور کرتا ہے۔
اور بعض حالات میں یہ منفی طاقت مثبت طاقتوں سے زیادہ اثر پزیر ہوتی ہے۔دنیا میں کہیں دو انسانوں کے درمیان جھگڑا ہو یا دو ملکوں کے درمیان میدان کارزار گرم ہو۔ سب اسی منفی اثر کی طاقت ہے جو تباہی کے ایسے لامتناہی سلسلے کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے جس کے اثر سے نکلنے میں قوموں اور تہذیبوں کو بعض اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں۔
(3)
 |
|
ایڈولف ہٹلر |
زیادہ دور کا قصہ نہیں، ابھی پچھلی جنگ عظیم کی بات ہے، جرمنی میں ایک شخص ایڈولف ہٹلر کےاندر کا موسم تبدیل ہوا، اس ذہنی خزاں کے موسم میں پیدا ہونے والی منفی سوچ نے کروڑوں انسانوں کا سانس بند کردیا، سینکڑوں شہروں کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا، بربادی کی وہ تاریخ رقم کردی جس کے اثر سے نکلنے میں دنیا کو ابھی نہ جانے کتنی صدیاں لگیں گی۔
ایٹم بم بھی تو کسی ذہنی پت جھڑ کے موسم ہی میں بنایا گیا ہوگا اور اس کو جاپان کے دو شہروں پر گرانے کا حکم دینے والے بھی تو اپنے اندر کے خراب موسم میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم رہے ہوں گے۔
کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ انسان اپنے اندر کے موسم کی تبدیلیوں کو سمجھے، اگر کہیں منفی بادل گھر آئیں تو انہیں ہٹا کر سوچ کا راستہ صاف کر دے۔ اپنے اندر پت جھڑ شروع ہو جائے تو دوسروں کو اس کے اثر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے کم از کم اس بات کا ادراک ہی کر لیا جائے کہ ایسے بُرے موسم میں کہی جانےوالے چھوٹی سی ُبری بات بھی دوسروں کے لیےتیزدھارتلوار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ تلوار لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات اور اس کے نتیجے میں آپ کی ذات او ر دنیا کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں ۔آپ کی ذات ، گھر ، دفتر ، اسکول کالج ، گلی محلہ اس تلوار کی پہنچ ہر جگہ ہے اس لیے اس سے پہلے سے ہوشیار رہنا ہی بہتر ہے۔
میرے خیال میں میرے اور آپ کے لیے گلوبل وارمنگ سے بڑا مسئلہ اپنے اندر کے موسم کو سمجھنا اور اس سے بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟