Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

اندر کا موسم اور گلوبل وارمنگ

February 11, 2008

Dubai skyscrapers

دبئی میں کڑاکے کی سردی؟

آج کل دبئی میں سردی پڑ رہی ہے، دبئی میں  سردی اور وہ بھی فروری میں؟ یہ نہیں ہو سکتا ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، دبئی تو صحرا کے بیچوں بیچ بسا ہے، بھلا  یہاں کہاں سردی؟ یہاں تو  دسمبر جنوری میں کوئی سویٹر پہن لے تو لوگ اس کو دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔

 

 جو لوگ دبئی کو جانتے ہیں، وہ ضرور اس سردی والی بات کو مذاق ہی سمجھیں گے کیونکہ فروری میں دبئی اور اس خطے کے دیگر علاقوں میں گرمی شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ اس خطے میں دو ہی موسم ہوتے ہیں، یعنی گرمی اور بہت گرمی!

 

اب ایسا کیا ہوا کہ یہاں بدن کو کاٹتی تیز ہوا صبح کے وقت مزاج پوچھتی ہے اور سردی  صندوقوں میں دفن گرم کپڑے باہر نکال کرپہننے پر مجبور کر دیتی ہے۔

 

یقیناً کچھ ہوا تو ہے۔ تبدیلی کی کوئی ہوا بہت آہستہ سے چلی ہے،جس نے اچانک موسم کو یرغما ل بنا لیا ہے۔میری سمجھ میں یہ  نہیں آ رہا کہ موسم تو چاروں  تبدیل  ہو رہے ہیں لیکن موسم کے عالمی اثر پذیری کو صرف گلوبل وارمنگ کا نام دیا جا رہا ہے ۔گویا سردی بیچاری کسی قطار شمار میں نہیں گنی جا رہی۔

 

Even a glance at the 2008 edition's long-range weather map tells the folks in a swath from Tennessee to Maine to get extra logs ready for the fire this coming winter
ویسے سردی کا موسم بھی عجیب ہے۔ باہر کا گرتا ہوا درجہٴ حرارت  انسان کے اندر حدت پیدا کر دیتا ہے۔ فزیکل تبدیلی کے ساتھ دماغ میں محوِخواب تخیل کےسوتے بھی پھوٹ پڑتے ہیں۔ نئی سوچ نئی ترنگ نئی توانائی کے ساتھ انگڑائی لے کر بیدار ہو جاتی ہے۔ ہوتا سب کے ساتھ ایسا ہی ہے, لیکن کچھ اس تبدیلی کو سمجھ لیتے ہیں او ر دوسرے سر کو جھٹک کر روز مرہ کے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔

 

ان کی بلا سے اندر کا موسم کیسا بھی ہو، ان کو صرف باہر کے موسم کی فکر ہوتی ہے۔ فکرِمعاش ،عشقِ بتاں یادِ رفتگاں۔زندگی دو دن کی اور اس میں کرنے والے کتنے کام،ایسے میں کون سرد موسم میں اپنے اندر بیدار ہوتی احساس کی نئی ترنگ کو لفٹ کراتا ہے۔

 

(2)

شعیب بن عزیز کا شعر ہے:

 

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

 

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اثر دوطرفہ ہوتا ہے اور باہر کا موسم بھی انسان کی اندر کی کیفیات  کو متاثر کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔ اورنفسیات کے ماہرین تو کہتے ہیں کہ ہر موسم کا اپنا رنگ اپنا روپ سروپ اور انسانی ذہن پر اپنا  منفرد اثر ہوتاہے۔

 

موسم کا یہ اثر ہر عمر کے انسان پر چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہو،یکساں نوعیت کا پڑتا ہے۔لیکن یہ الگ بات کہ ہم میں سے اکثر اس بات کا ادراک نہیں رکھتے کہ ہمارے احساس کے تار  کبھی ڈھیلے کیوں پڑ جاتے ہیں اور کبھی ان سے وائلن کے تاروں جیسی موسیقی کیوں نکلنے لگتی ہے۔

 

بات آسان ہے جیسے تما م انسانوں کی سوچ ، فکر  اور وجدان، ایک جیسا نہیں ،ایسے ہی  ان کی صلاحیتیں اور سمجھ بھی مختلف ہے۔

 

اس لیے ہر انسان اپنے باہر ہونے والی موسمی تبدیلی کا اثر تو فورا قبول کرلیتا ہے لیکن اپنے اندر کے موسم میں ہونے والی تبدیلیاں بعض اوقات اس  کے لیے معما بن جاتی ہیں۔

 

 یہ اندر کا موسم  کبھی یہ ہم کو خوش باش کرتا ہے تو کبھی اداسی کا بہانہ بن جاتا ہے ۔ کبھی  خود بہ خود طبیعت میں شوخی مچلنے لگتی ہے اور کبھی خوشی کی بات سن کر بھی آنکھ بھر آتی ہے۔ انسانی نفسیات کے ماہرین ہمارے اندر ہونے والی اس موسمی تبدیلی کو ’موڈ سوئنگ‘کہتے ہیں۔

 

انسانی رویے میں پیدا ہونے والی ہرمثبت تبدیلی کا اچھا اثرصرف اس انسان ہی پر نہیں پڑتا بلکہ اس کے اطراف میں موجود لوگ بھی اس کے مثبت اثر کو قبول کرتے ہیں،بلکہ  اس سے اثر بھی لیتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ اپنے اندر کے موسم کی تبدیلیوں کو ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے ان کے رویے میں پائی جانے والی کجی کو بھی بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے اور جس طرح مثبت رویہ انسان کے گرد و پیش  موجود لوگوں اور ماحول کو مثبت تاثر دیتا ہے ، بالکل اسی طرح منفی رویہ اپنی طاقت کا اظہار ضرور کرتا ہے۔

 

اور بعض حالات میں یہ منفی طاقت مثبت طاقتوں سے زیادہ اثر پزیر ہوتی ہے۔دنیا میں کہیں  دو  انسانوں کے درمیان جھگڑا ہو یا دو ملکوں کے درمیان میدان کارزار گرم ہو۔ سب اسی منفی اثر کی طاقت ہے جو تباہی کے ایسے لامتناہی سلسلے کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے جس کے اثر سے نکلنے میں قوموں اور تہذیبوں کو بعض اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں۔

 

 

(3)

 

150-Adolf-Hitler

ایڈولف ہٹلر

زیادہ دور کا قصہ نہیں، ابھی پچھلی جنگ عظیم کی بات ہے، جرمنی میں ایک شخص ایڈولف ہٹلر کےاندر کا موسم تبدیل ہوا، اس ذہنی خزاں کے موسم میں پیدا ہونے والی منفی سوچ  نے کروڑوں انسانوں کا سانس بند کردیا، سینکڑوں شہروں کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا، بربادی کی وہ تاریخ رقم کردی جس کے اثر سے نکلنے میں دنیا کو ابھی نہ جانے کتنی صدیاں لگیں گی۔

 

ایٹم بم بھی تو کسی ذہنی پت جھڑ کے موسم ہی میں بنایا گیا ہوگا اور اس کو جاپان کے دو شہروں پر گرانے کا حکم دینے والے بھی تو اپنے اندر کے خراب موسم  میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم رہے  ہوں گے۔

 

کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ انسان اپنے اندر کے موسم کی تبدیلیوں کو سمجھے، اگر کہیں منفی بادل گھر آئیں تو انہیں ہٹا کر سوچ کا راستہ صاف کر دے۔ اپنے اندر پت جھڑ شروع ہو جائے تو دوسروں کو اس کے اثر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے کم از کم اس بات کا ادراک ہی کر لیا جائے کہ ایسے بُرے موسم میں کہی جانےوالے چھوٹی سی ُبری بات بھی دوسروں  کے لیےتیزدھارتلوار ثابت ہو سکتی ہے۔

 

smiley arttoday 150 eng 28jun02.jpg
یہ تلوار لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات اور اس کے نتیجے میں آپ کی ذات او ر دنیا کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں ۔آپ کی ذات ، گھر ، دفتر ، اسکول کالج ، گلی محلہ اس تلوار کی پہنچ ہر جگہ ہے اس لیے اس سے پہلے سے ہوشیار رہنا ہی بہتر ہے۔

 

میرے خیال میں میرے اور آپ کے لیے گلوبل وارمنگ سے بڑا مسئلہ اپنے اندر کے موسم کو سمجھنا اور اس سے بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
دلیپ کمار کی واپسی
کینیڈا میں 14اکتوبر کو نئے انتخابات کرانے کے لیے پارلیمنٹ توڑ دی گئی
نواز ،زرداری ملاقات، مسلم لیگ ن کی اتحاد میں شمولیت سے معذرت
قومی ہاکی ٹیم کی شرمناک کار کر دگی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم
پاکستانی صدر کی تقریب حلف برداری میں حامد کرزئی بھی شرکت کریں گے
مسائل پر قابو پانے کے لیے نوازشریف کو ساتھ لے کر چلنا زرداری کے لیے ضروری ہے  Video clip available
نیوزیم کی نیوز ہسٹری گیلری  Video clip available
نو منتخب صدر آصف زرداری منگل کو حلف اٹھائیں گے
پاکستان میں یوایس ایڈ کا کردار  Video clip available
خدا بخش لائبریری میں فراز کے انتقال پر تعزیتی جلسہ
امریکی سفارت خانے کو  مشکوک لفافے موصول ہوئے ہیں
اگر پی سی بی کو ضرورت نہ ہو تو وطن واپس جانے کے لیے تیار ہوں: جیف لاسن
پشاور کے نواح میں ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک شدگان 33 ہوگئی
جارجیا کے بحران پر یورپ اور امریکہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے: وزیر خارجہ اٹلی
مسلمانوں کا امریکہ: مسلمان خواتین ۔۔۔ چوتھی قسط: تیسرا حصہ  Video clip available
Muslims’ America: Women in Islam … Episode 4, Part 3  Video clip available
ہری کین آئیک سے بہاماز،کیوبا اور امریکی خلیجی ساحل کو خطرہ
اسرائیل کا مغربی کنارے سے یہودی بستیاں ختم کرنے پر غور
دارفر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر سوڈانی فوج کے حملے
مصر میں چٹان پھسلنے سے 30 افراد ہلاک 
انگولا کے پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت جیت رہی ہے
بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
ایران  میں پیر سے تین روزہ  جنگی مشقیں 
افغانستان میں پولیس ہیڈ کواٹرز پر خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک
پاکستان کے نو منتخب صدر کے بارے میں ردِّ عمل؛  توقعات، امیدیں اور خدشات
ایوانِ صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن قائم کرنا اَوّلین ترجیح ہوگی: نو منتخب صدر زرداری
وکلاء کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج  Video clip available
صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیئےری پبلیکن پارٹی کا نیشنل کنونشن  Video clip available
ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار سارہ پالین  Video clip available
بھارت میں کئی کال سینٹرز نابینا افراد کو روزگار فراہم کررہے ہیں  Video clip available