ڈاکٹر سید عبداللہ کا شمار ان مشاہیر میں ہوتا ہے جو زندگی بھر انٹرویو دینے سے گریز کرتے رہے، کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو اہلِ قلم ہیں، جو کہنا چاہیں گے وہ لکھ دیں گے، بولنے کی کیا ضرورت ہے؟
تاہم جب میں اکتوبر 1984ء میں سمن آباد لاہور میں اپنے استادِ دیرینہ سے ان کے مکان ’نشیمن‘پر ملا تو وہ دیرینہ تعلق کی بنا پر میرا ٹیپ ریکارڈ بند نہ کرا سکے۔
اردو ادب کی ترویج میں مولوی عبدالحق کے بعد جس شخصیت کا سب سے زیادہ حصہ ہے، وہ سید عبداللہ ہیں۔