امریکہ کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ہنرمند افراد کے لیے لاٹری سسٹم کے ذریعے ویزے جاری کرے گا۔
یہ فیصلہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں وصول کرنے اور ان درخواستوں کی جانچ پڑتال میں مشکلات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
امیگریشن افسران کے مطابق ایوان نمانئندگان نے غیرملکی ہنرمندوں جن میں انجنئیرز، سائنسدان اور دیگر ہنرمند شامل ہیں کے لیے (B1-H) ویزا کی تعداد کم کرکے ایک برس میں 65 ہزارکر دی ہے۔
امریکی شہری اور امیگریشن سروسز نے ویزے کے لیے ملنے والی درخواستوں کی تعداد نہیں بتائی تاہم انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہفتے میں یہ تعداد ویزے کے لیے مقرر کیے گئے کوٹے سے بڑھ گئی تھی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب ویزے لاٹری سسٹم کے ذریعے جاری کیے جائیں۔ ویزا لاٹری شروع کرنے کی تاریخ کا بھی فی الحال اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یہ مخصوص ویزے ہنرمندوں کو امریکہ میں کام کرنے کے لیے چھ سال کا وقت مہیا کرتا ہے۔ دوسری جانب مائیکروسافٹ جیسے دوسرے اداروں نے اس فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزا حاصل کرنے میں مشکلات ہوں گی اور وہ نوکریوں کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔