 |
| ایک امریکی افسر ویزے کی جانچ پڑتال کر رہا ہے |
اگر آپ نے ایچ ون بی ویزا کی درخواست اس ماہ کے شروع میں فائل کی ہے تو وہ لاکھوں درخواستوں میں سے ایک ہے۔ لاٹری میں اگر آپ کی درخواست چن بھی لی جانے تو بھی امریکہ آ کر آپ کو روزگار ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
امریکی حکومت نے کچھ سال پہلے لاٹری کے ذریعے ایچ ون بی ویزے دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کی کل تعداد 85000 ہزار رکھی گئی ہے جس میں سے 20000 ویزے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے مخصوص ہیں۔
ویزہ لاٹری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ویزے دینے کا یہ ایک بہت کارآمد ، تیز اور آسان طریقہ ہے۔ مگر اس نظام کے بہت سے ناقدین بھی ہیں جن میں امریکی ریاست نیوہمشائیر کے جوڈ گریگ بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ڈرکسن سینٹ بلڈنگ میں ایک مذاکرے میں اس سلسلے میں اپنی تجویز کردہ قانون سازی کی وضاحت کی۔
تحقیقی ادارے کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر ڈینیل گریس ورلڈ نے سینٹر گریگ کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ میں تارکین وطن کی اہمیت کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔
حال ہی میں اکنامسٹ میگزین نے امریکہ کی ایچ ون ویزوں کی تعداد کو نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ماہرین کے حصول کی کوششیں جاری ہیں جن میں امریکہ کو اپنی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے شکست کاسامنا ہے۔ گریس ورلڈ نے کہا کہ امریکی عوام اکثر تارکین وطن کو ملازمتیں دیے جانے پر یہ کہتے ہوئے تنقیدکرتے ہیں کہ یہ ملازمتیں امریکی عوام سے چھینی جارہی ہیں۔
امریکہ دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جو تربیت یافتہ افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو بآسانی پورا سکتا ہے۔ مگر سینیٹر گریگ کے مطابق یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب کانگریس اس نوعیت کی سفارش پر سنجیدگی سے غور کرے جو ان کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔