عادل منصوری امریکی ریاست نیوجرسی میں مقیم ہیں اور یہاں سے اپنی شاعری کی کرنیں اردو دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں۔
انھوں نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی زندگی اور شاعری کے علاوہ گجرات میں ولی دکنی گجراتی کے مزار کی بے حرمتی اور پھر بلدیہ کی طرف سے اس پر سڑک بنا دینے کے واقعات ساتھ ساتھ ظفر اقبال کی گجراتی ردیفوں والی121غزلوں کا بھی ذکر کیا۔
اس کے علاوہ انھوں نے ہمیں اپنی خوب صورت غزلوں سے بھی نوازا، جن سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں، تفصیل کے انٹرویو سنیئے
میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر
اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا
اس کی ناراضی کا سورج جب سوا نیزے پہ تھا
اپنےحرفِ عجز ہی نے سر پہ سایہ کر دیا
دنیا بھر کی خاک کوئی چھانتا پھرتا ہے اب
آپ نے در سے اٹھا کر کیسا رسوا کر دیا