 |
| پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز الٰہی |
پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور مسلم لیگ ق کے سرکردہ رہنما، چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد کو ابھی تک اعتبار نہیں آ یا کہ وہ حکومت میں آچکا ہے۔
اُن کے بقول، ’الیکشن ہونے کے فوری بعد انتظامیہ اِن کے تحت آ گئی تھی۔ تین ماہ ہوگئے ہیں۔ اب اِن کو اِس (الزام تراشی) سے نکل آنا چاہیئے۔ہم اِن کو بار بار یقین دِلا رہے ہیں اور اِن کو جنجھوڑ رہے ہیں کہ آپ خواب میں نہ رہیں، آپ حکومت میں آ گئے ہیں۔ مگر اِن کو اعتبار نہیں آ رہا کہ ہم حکومت میں آ گئے ہیں۔‘
اُنہوں نے یہ بات ہفتے کو وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کہی۔
چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ اُن کی پارٹی میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جِن کو یقین نہیں
آ رہا کہ وہ اپوزیشن میں آگئے ہیں۔ اُن کو بقول،’اِس حوالے سے صورتِ حال ایک جیسی ہے کہ اُن کو حکومت نہیں کرنا آرہی اور ہمیں اپوزیشن نہیں کرناآرہی۔‘
تاہم اُنہوں نے کہا کہ جِن لوگوں نے پنجاب میں ق لیگ میں فارورڈ بلاک بنایا تھا اُن کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔’اُن کی طبیعت میں افاقہ ہے۔ اُن کو سمجھ لگ گئی ہے کہ وہاں جو اُن کے ساتھ ہوا ہے۔ تو، اِس لیے کوئی چیز گھر بیٹھے اب مل نہیں جانی یا کسی چیز پر جھپٹ پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
پنجاب کے پی ایم ایل ق کے سربراہ نے کہا کہ ہمیشہ سے اپوزیشن کی روایت رہی ہے کہ حکومت کو فارغ کیا جائے۔ اُن کے بقول،’ ہم یہ نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کچھ عرصہ چلیں۔ جِس بنیاد پر ووٹ کے کر آئے ہیں، لوگ دیکھیں تو سہی کہ وعدے پورے کرنے کی کہاں تک اُن کی نیت ہے۔‘
آٹے اور گندم کے بحران کے بارے میں سوال کے جواب میں، چودھری پرویز الٰہی کے بقول، وہ چیلنج کرتے ہیں کہ اُن کی جماعت کے پانچ سال کے دور میں ایک دِن آٹے کا بحران نہیں آیا۔پھر یہ کہ نئی فصل آنے کے بعد یہ کہنا غلط ہوگا کہ آٹے کا بحران پچھلی حکومت کی وجہ سے ہے۔
استفسار پر کہ گندم کا بحران تو شوکت عزیز صاحب کے وقت میں پہلی مرتبہ نمودار ہوا اور کہا گیا کہ اُن کی حکومت نے پہلے گندم برآمد کی اور پھر درآمد کرنا پڑی۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلی باتوں کو اور الزام تراشی کو ختم ہونا چاہیے۔
توانائی کی قلت کے بارے میں سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق کے دورِ حکومت میں 1800 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا گیا، 1500میگاواٹ کا نجی شعبے میں اور 300میگاواٹ منگلا کی سطح کو بلند کرکے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر حکومتی اتحاد آگے نہیں چل پاتا تو اُن کی جماعت حکومت میں شامل ہونا چاہے گی، تو اُنہوں نے کہا کہ جب ایسی صورتِ حال آئی تو پھر اُن کی پارٹی کا نکتہٴ نظر بھی سامنے آئے گا۔
اِس سوال پر کہ صدرِ مملکت اُن کی جماعت کی قیادت میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں، چودھری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ’صدر صاحب کو خواہ مخواہ یہ سارے لوگ ملوث کرتے ہیں۔‘
عدلیہ کی بحالی کے بارے میں معلوم کرنے پر، چودھری پرویز الٰہی نے کہا حکومتی کمیٹی ابھی تک تجاویز کا مسودہ سامنے نہیں لائی پھر یہ بتائے کہ وہ کیا قرارداد پیش کرنا چاہتی ہے۔ اُن کے بقول، پھر ہماری لیگل ٹیم بیٹھے گی اور وہ غور کرکے اپنا نکتہٴ نظر سامنے لائے گی۔
جب اُن کو بتایا گیا کہ تین نومبر کا معاملہ اُن کی جماعت کی حکومت کے دوران پیش آیا جِس نے اِس اقدام کی ہر سطح پر تائید کی، اُنہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ مسئلہ پارٹی نے خود پیدا کروایا۔ اُن کے بقول، موجودہ عدلیہ 60 سے 70فی صد وہی ہے جو مرکز اور صوبوں میں دو نومبر کو تھی۔ اُن کے بقول، سپریم کورٹ کی طرف سے صدر کی توثیق کے بعد اب اِس میں بڑے آئینی اور قانونی پہلو ہیں، اور آئین کے تحت ججوں کی تعیناتی اور نکالے جانے کا طریقہٴ کار واضح طور پر وضع شدہ ہے۔