 |
| پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف |
لندن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین کے درمیان مذاکرات میں ناکامی کے بعد نواز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ اُنہوں نے معزول ججوں کی بلا مشروط بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن اِس معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلافات دور نہ ہو سکے، جو قابلِ افسوس ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ: ’معاملہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہا، اور ہم ججوں کی با عزت واپسی چاہتے ہیں۔‘
نواز شریف نے اِس امر سے بھی انکار کیا کہ جنوبی ایشیا کے لیے نائب امریکی وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر سے اُن کی ملاقات میں ججوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔اُن کے الفاظ میں:’امریکہ سے ہم اپنے قومی معاملوں پر کوئی فیصلہ نہیں لیتے۔ امریکہ سے ہمارے باہمی تعلقات پر بات چیت ہوئی ہے۔ اور اِس پر تو کوئی بات، میں نہیں سمجھتا، ضرورت ہے۔‘
نواز شریف نے بتایا کہ وہ 12مئی کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں پارلیمانی پارٹی اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے مشترکہ اجلاس کے بعد وہ مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اِسی طرح، اسلام آباد، دُبئی اور لندن کے بعد، ججوں کی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر اسلام آباد منتقل ہو گیا ہے، جہاں پیر کے روز وکلا تنظیموں نے ملک بھر میں گذشتہ سال 12مئی کے سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں احتجاجی جلسے جلوس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اِس موقعے پر وہ ججوں کی بحالی کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ بھی کریں گے۔
سینئر قانون داں،فخر الدین جی ابراہیم نے اِس حوالے سے بتایا:’ہم آئین کی بالادستی کی بات کررہے ہیں۔ ہم کسی فرد کی بات نہیں کر رہے۔ ہم اصول کی بات کررہے ہیں۔ میرا عقیدہ ہے کہ آج بھی 12نہیں تو 15نہیں تو 16 مگر یہ جج ضرور واپس آئیں گے۔‘
حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اِس معاملےپر بات چیت میں ناکامی اور وکلا تنظیموں کی طرف سے ججوں کی ہر صورت بحالی کے مطالبے کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ سال نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی کے بعد جو طوفان اُٹھا تھا وہ تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔