 |
| نیپال کی ماؤنواز کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ پراچندا |
نیپال کی اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار میں شراکت پر ابھی تک اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے اور اِس ناکامی سے فکرمند بھارتی سفیر راکیش نے ماؤ نوازوں کے چیرمین پراچندا سے اتوار کے دِن ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق، پراچندا، جو کہ وزیرِ اعظم کے عہدے کے دعوے دار ہیں، اُن سے راکیش نے طویل بات چیت کی۔
بھارتی سفیر سے بات چیت کے بعد، ماؤ نواز لیڈروں نے اُن دو جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی جو گذشتہ ماہ کے انتخابات کے بعد خطے میں بڑی طاقت بن کر اُبھری ہیں۔
دس سالہ طویل گوریلا جنگ کے بعد ماؤنواز پارٹی کو فتح تو حاصل ہوئی ہے، تاہم وہ محض 230نشستیں جیت سکی ہے اور اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت سازی میں ماؤنوازوں کو یا تو کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یوایم ایل) جِس کی103نشستیں ہیں یا پھر وزیرِ اعظم گرجا پرشاد کوئرالہ کی نیپالی کانگریس، جِس کے حصے میں 110سیٹیں آئی ہیں، کی حمایت کی ضرورت ہے۔
بھارتی سفیر نے کوئرالہ سمیت نیپال کے تمام رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتوں میں مفاہمت کی راہ نکالنے کا مشورہ دیا۔