سیاسی بے یقینی، بجٹ کے خدشات اور روپے کی قدر میں کمی کے نتیجے میں ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں کراچی اسٹاک مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی۔
انڈیکس 728پوائنٹ کمی کے ساتھ 14229پر آگیا۔اِس طرح، مارکیٹ کی مالیت میں پانچ فی صد کمی واقع ہوئی۔
غیر ملکی سرمایہ کار پورے ہفتے اپنے شیئرز فروخت کرتے رہے اور اُن کی طرف سے کوئی نئی سرمایہ کاری دیکھنے میں نہیں آئی۔
پورے کاروباری ہفتے میں ساڑھے چار کروڑ ڈالر غیر ملکی سرمایہ نکالا گیا۔ کاروباری حجم اور مالیت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔
اسٹاک مارکیٹ سے منسلک کاروباری نئے بجٹ کے حوالے سے بھی بے یقینی کا شکار نظر آرہے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بازارِ حصص کو پورے ہفتے اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا۔ ملک کے میکرو اکانامک حالات اُن کی تشویش میں اضافہ کرتے رہے۔
تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ سیاسی محاذ پر بے یقینی، گرتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر، تیل کی عالمی قیمتوں میں تسلسل سے اضافہ، سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھانے کی بڑی وجہ ہے، جب کہ سرمائے کی بیرونِ ملک منتقلی بھی اسٹاک مارکیٹ کے لیے مشکلات بڑھا رہی ہے۔
کراچی اسٹاک ایسکس چینج کی مارکیٹ کیپیٹلا ئیزیشن نے ایک ہفتہ قبل 70ارب 99کروڑ ڈالر تھی، اِس ہفتے کے اختتام پر 8.9فی صد کمی کے ساتھ 64ارب 67کروڑ ڈالر رہ گئی۔
پیر سے شروع ہونے والے ہفتے کے حوالے سے بھی ڈیلروں کو تشویش ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارکیٹ اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے گی۔