آج اتوار کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سانبا سرحدی علاقے میں بھارتی فوج اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک فوٹوگرافر سمیت، پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق، فوج اور نیم فوجی دستوں نے بستی میں مسلح افراد کے خلاف آپریشن کیا جو سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے ختم ہوا جس میں دومسلح افراد ہلاک ہوئے۔ جب کہ، طرفین کے درمیان جھڑپ میں ایک فوجی خاتون، شہری اور ایک پریس فوٹو گرافر اشوک سوڈھی،جو واقعے کی تصاویرلے رہا تھا، لقمہٴ اجل بن گئے جب کہ نصف درجن افراد کو چوٹیں آئیں۔
ہلاک کیے گئے ہوشیار سنگھ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غیر معروف سیاسی تنظیم انٹرنیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ تھے جِنہوں نے کچھ عرصہ پہلے سانبا میں علیحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک جلسہٴ عام منعقد کرنے میں اُن کی معاونت کی تھی۔
مسلح افراد نے اُنہیں کیوں نشانہ بنایا یہ ہنوز واضح نہیں۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ واقعے کے حوالے سے شک و شبہ موجود ہے جِسے دور کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیئے۔