 |
| سعادت حسن منٹو |
بیسویں صدی میں اردو فکشن کا تذکرہ کہیں سے شروع کیا جائے اس میں سعادت حسن منٹو (1921۔1955ء) کا نام ضرور شامل ہوگا ۔ ان کے ذکر کے بغیر فکشن نگاروں کی کوئی فہرست مکمل نہیں ہو سکتی حالانکہ اجل نے منٹو کو بہت کم وقت دیا یعنی انہوں نے صرف 34برس کی عمر پائی ۔ لیکن جو کچھ لکھا اس کا ذکر اس زمانے میں بھی ہوا اور آج تک ہو رہا ہے کیونکہ ان کے افسانے ماورائے عصر ہیں ۔
لکھنا منٹو کی ضرورت تھا کیونکہ یہی ان کی روزی روٹی تھی ایک طرح سے وہ قلم کے مزدور تھے ۔ اس لئے انہوں نے نہ صرف افسانے اور ناول لکھے بلکہ انشائیے ، ڈرامے ، رپور تاژ اور خاکے بھی لکھے ۔ فلموں کے لئے منظرنامے اور مکالمے رقم کئے اور فلمی دنیا کی برائیوں کو بھی بے نقاب کیا ۔
منٹو نے جس وقت لکھنا شروع کیا اس وقت اردو افسانے کے افق پر کئے بڑے نام موجود تھے ۔ جن میں پریم چند ، سدرشن ، علی عباس حسینی، نیاز فتحپوری ، ابوالفضل صدیقی اور اعظم کریوی وغیرہ کے نام آتے ہیں ۔ منٹو کے ہم عصروں میں کرش چندر ،راجندر سنگھ بیدی ، اپندر ناتھ اشک، غلام عباس اور عصمت چغتائی جیسی شخصیتیں تھیں ۔ مگر منٹو کے منفرد آرٹ کے سامنے سبھوں کا چراغ ماند پڑ گیا ۔ منٹو ان سب میں قدآور بن کر ابھرے اس کا ایک سبب تو ان کی بے باکی ، بے خوفی اور جرآت مندی ہے جو منٹو کی تحریروں میں ہر جگہ نظر آتی ہے ۔ اسی باعث ان کے کئی افسانوں کو فحش قرار دیا گیا اور کچھ پر تو مقدمے بھی چلے جس کے باعث انہیں عدالتوں کے چکر لگانے پڑے ۔ ایک طرح سے منٹو کی تحریروں کے سبب ہی دانشور حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑی کہ آخر فحاشی ہے کیا ۔
برصغیر میں فکشن کی دنیا کا سب سے بڑا نام منٹو ہے ۔ اس لئے ان کی تخلیقات کا ترجمہ بیشتر زبانوں میں ہو چکا ہے بلکہ اردو کے مقابلے میں ان کی کتابیں دوسری زبانوں میں زیادہ فروخت ہوئی ہیں ۔
یہ ایک المیہ ضرور ہے کہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھنے کے باوجود منٹو ہمیشہ مفلوک الحال رہے اور اسی مفلوک الحالی میں دم توڑ دیا ۔ پاکستان کے مشہور کالم نگار ناصر زیدی روزنامہ پاکستان کے اپنے کالم ’بادشمال‘ میں لکھتے ہیں کہ میں نے ”ادب لطیف “کے دفتر میں وہ رسیدیں دیکھی ہیں جب منٹو تیس روپے روزانہ کے عوض ہر دن ایک افسانہ لکھا کرتے تھے ۔ رو زانہ ایک افسانہ لکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ان کے وہ تمام افسانے بھی اردو ادب کا شاہکار ہے ۔
منٹو کے افسانوں کا آج زیادہ با معنی بن کر ابھرنے کا ایک سبب یہ ہے انہوں نے عصری حالات سے خود کو جوڑے رکھا اپنے عہد کے انسان اس کے جذبات و احساسات کی عکاسی کی ۔ انسانی دکھ درد کو زبان دی ۔ اسی کے باعث ان کے افسانے وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ نکھرتے چلے گئے ۔ انسانوں کا وہ درد و کرب آج بھی زندہ ہے جس کی ترجمانی منٹو نے کی تھی ۔ درحقیقت دنیا نے درد و کرب کی شکل میں انہیں جو کچھ دیا تھا افسانوں کی شکل میں انہوں نے دنیا کو واپس لوٹا دیا اور یہی منٹو کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ ان کے افسانے ’کالی شلوار‘ ’ہتک ‘ ’ بُو‘ ’ ٹھنڈا گوشت‘ ’ ٹوباٹیک سنگھ ‘ ’ موذیل‘ ’ بابو گوپی ناتھ ‘ ’ سرکنڈے کے پیچھے ‘ ’ خالی ڈبے خالی بوتلیں ‘ ’ کھول دو ‘ آج بھی زندہ ہیں ۔
ہندوستان کی تقسیم کا ذکر جب بھی ہوتا ہے تو تقسیم کے موضوع پر لکھے ہوئے منٹو کے افسانے خود بخود زندہ ہو جاتے ہیں ۔ ان کے ’سیاہ حاشیے‘ آج بھی بامعنی ہیں ۔ فرقہ وارانہ فساد کا ذکر آتے ہی منٹو کے افسانہ ’کھول دو‘ کا ذکر آنا لازمی ہے ۔ دراصل یہ افسانہ قاری کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔
11 مئی 1955 کو اس عظیم تخلیق کار کا لاہور میں انتقال ہو گیا ۔ لیکن اس کے ساتھ منٹو کی کہانی ختم نہیں ہوئی کیونکہ یہ کہانی کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی ۔