لبنان کے سیکیورٹی عہدے داروں نے کہا ہے کہ شمالی لبنان میں رات کے وقت حکومت نواز اور حکومت مخالف قوتوں کے درمیاں شدید جھڑپیں ہوئیں جبکہ دارلحکومت بیروت نسبتاً پُر سکون رہا۔
تریپولی شہر کی بندرگاہ پر ہونے والی جھڑپیں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے سنّی حامیوں اور عسکریت پسند شیعہ گروپ حزب اللہ کے حامیوں کے درمیان ہوئیں۔
ان جھڑپوں میں کم ازکم ایک شخص ہلاک ہوگیا۔گذشتہ پانچ روز کے دوران کی لڑائیوں میں لبنان میں ہلاک ہونے والی کی تعداد 38 ہوگئی ہے۔
عہدے داروں نے کہا ہے کہ ترپیولی میں لبنانی فوجی دستے پہنچنے کے بعد صورت حال پرسکون ہے۔
ایک اور خبر کے مطابق بیروت میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ان علاقوں سے نکالنے کے بعد جہاں انہوں نے قبضہ کرلیا تھا، سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ یہ 1975 سے 1990 کے دوران لبنان کی خانہ جنگی کے بعد سے بدترین فرقہ وارنہ تشدد تھا۔
ویٹیکن میں پوپ بینیڈکٹ نے لبنانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ اس سے قبل کہ ان کے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے، وہ تصادم سے دور رہیں۔
لبنان کی بحران پر غور کے لیے 22 ارکان پر مشتمل عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس پروگرام کے مطابق آج اتوار کے روز قاہرہ میں ہورہا ہے۔
حزب اللہ اس کے بعد اپنے فوجیوں کو علاقے سے نکالنے پر رضامند ہوئی جب لبنانی حکومت نے بیروت ایئرپورٹ کے سیکیورٹی سربراہ کی برطرفی کے فیصلے کو واپس لیا۔ انہیں اس گروپ کے ساتھ مبینہ طورپر تعلق رکھنے کی بنا پر نکال دیا گیا تھا۔
حزب اللہ نے فوج کے اس وعدے کا بھی خیر مقدم کیا ہے کہ وہ گروپ کے ٹیلی کمیونیکیشن کے نیٹ ورک کو اس انداز میں چلائے گا جس سے حزب اللہ یا قومی مفاد کو نقصان نہ ہو۔
عسکریت پسند گروہ نے انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مطالبوں کے پورے ہونے تک سول نافرمانی کی تحریک جاری رکھیں گے ۔تاہم انہوں نے ان مطالبوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
لبنانی حکومت نےپچھلے ہفتے حزب اللہ کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا ۔ حزب اللہ نے کہا تھا کہ یہ اقدام اعلان جنگ تھا۔