پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور مرکزی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارٹی کے قائد نواز شریف کی صدارت میں پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہو رہاہے۔اس اہم اجلاس میں لندن میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر ہونے والی بات چیت میں ناکامی کے بعد نواز شریف نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان کی جماعت مخلوط حکومت کا حصہ رہے گی یا نہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اجلاس کے فیصلوں سے ذرائع ابلاغ کو آگاہ کرنے کے لیے پنجاب ہاؤس میں ایک نیوز کانفرس شام چھ بجے منعقد کی جائے گی۔
لندن میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر نواز شریف نے سخت مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ بات چیت کے تعطل کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے ہرممکن کوشش کی لیکن تین نومبر کو عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے مستقبل کے بارے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر پیر کی شب 12 بجے تک ججوں کی بحالی کے مسئلے پر اختلافات ختم نہ ہوئے تو مسلم لیگ کے اراکین وفاقی کابینہ سے مستعفی ہو جائیں گے۔
دریں اثنا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے آفس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خوراک کے سینئر وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان نے پیر کو ایک ملاقات میں وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آج کے اجلاس میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اس سے قطع نظر مسلم لیگ (ن) مخلوط حکومت کی حمایت جاری رکھے گی۔