بنگلہ دیش کی فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے انسداد دہشت گردی کے نئے سخت قوانین کی منظوری دے دی ہے جن کے تحت دہشت گرد سرگرمیوں کی بنا پر زیادہ سے زیادہ موت تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔
پیر کے روز عہدے داروں نے کہا کہ مشیروں کی کونسل نے اتوار کے روز نئے قوانین کی منظوری دی۔
قانون سازوں نے دہشت گردی کو ایک ایسی کارروائی قرار دیا جس سے بنگلہ دیش کے اقتدار اعلیٰ ، وحدت اور استحکام کو خطرہ لاحق ہوسکے یا جس سے بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلے۔ یرغمال بنانا ، موت کی دھمکیوں ،زدو کوب کرنے اور قتل کو دہشت گردی کی کارروائیاں سمجھا جاسکتا ہے۔
نئے قانون کے تحت جو کوئی بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ، اسے 3 سے20 سال تک کی قید یا سزائے موت دی جاسکتی ہے۔
بنگلہ دیش نے نئے قوانین کا مسودہ حالیہ برسوں میں دہشت گرد حملوں کے ایک سلسلے کی زد میں آنے کے بعد تیار کرنا شروع کیا تھا۔