بلوچستان کے اکثر علاقوں میں آٹے اور گندم کے بحران نے ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرلی ہے اور مخالف سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔
اگرچہ حکومت نے دعوے کیے تھے کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر آٹا فراہم کیا جارہا ہے، مگر سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ روزانہ 300سے400ٹرک آٹا ہمسایہ ملک افغانستان سمگل کیا جاتا ہے، جِس میں، اُن کے بقول، انسدادِ سمگلنگ کے ادارے اور بعض ضلعی حکام بھی ملوث ہیں۔
کوئٹہ میں 20کلو آٹے کی تھیلی کی قیمت 700روپے، جب کہ، سرحدی اضلاع میں ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
صوبائی حکومت میں یوٹلٹی اسٹوروں اور خریداری کے مراکز پر آٹے کے حصول کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں اب روز کا معمول بن گئی ہیں۔
اُن قطاروں میں کھڑے بزرگ اور خواتین میں چند نے وائس آف امریکہ کو بتاتے ہوئے کہا:
’آٹا ملتا نہیں ہے۔ ایک تو رش کی وجہ سے، پھر جو آٹا آتا بھی ہے، تھوڑا آتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کھ خواتیں بھی اِدھر کھڑی ہیں اور بچے بھی اِدھر دھکے کھارہے ہیں، مردوں کے بیچ میں۔‘
’اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ ایک آٹے کی بوری کے لیے انسان انسان کو قتل کرنے پر تُل گیا ہے۔ مہنگاتو جو ہے سو ہے لیکن موجود ہی نہیں۔ گِنے چُنے لوگوں کو ملتا ہے۔ اِس کی کوالٹی اتنی خراب ہے کہ وہ کھانے کے قابل ہی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے انسان تو انسان کوئی جانور بھی اِسے نہ کھائے۔‘
’اکثر بڈھے لوگ رو رو کے واپس جاتے ہیں، کہ آٹا نہیں ملتا ہے اُن کو۔‘
دریں اثنا، صوبائی وزیرِ خوراک علی مدد جَتک نے بتایا کہ آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لیے صوبہٴپنجاب سے ساڑھے تین لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی جارہی ہے۔