پاکستان اور القاعدہ سے منسلک انتہا پسندوں کے ساتھ امن معاہدہ طئے پا جانے کے امکان کے پیشِ نظر، نیٹو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر اپنی فوجوں میں اضافہ کرے گا۔
نیٹوکے جنرل ڈین میک نیل نے آج پیر کو رائٹر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ جب بھی پاکستانی حکومت اور پاکستان میں مقیم انتہا پسندوں کے درمیان بات چیت ہوتی ہے،دیکھایہ گیا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اکثر تیزی آجاتی ہے۔
میک نیل کا کہنا ہے ممکنہ طور پر اتحادی امریکی فوج کی تعداد کو بڑھادیں گے، جِس کی یہ ذمہ داری ہے کہ افغان فوج کے ساتھ سرحدی علاقے کے پہاڑوں پر گشت جاری رکھے۔
پاکستان کی نئی منتخب حکومت تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جس کی قیادت بیت اللہ محسود کرتے ہیں۔ اور ان پر الزام ہے کہ یہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں۔