 |
| پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین آصف علی زرداری |
لاہور کی ایک عدالت نے پیر کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کو منشیات کیس میں، جو اُن کے خلاف آخری مقدمہ تھا، بَری کر دیا ہے۔
اِس کیس کے حوالے سے آصف زرداری کے وکیل سینیٹر لطیف کھوسہ نے بتایا کہ اُن کے مؤکل کے خلاف برطانیہ اور سویٹزرلینڈ میں کارروائی نہیں ہو پار ہی تھی اور وہ حکومتیں کہہ رہی تھیں کہ ’ہمارے قانون میں ایک ہی طریقہ ہے کہ اگر آپ ثابت کریں کہ منشیات سے متعلق رقم ہیں۔‘
اُن کے بقول، اُس دور کے کرتا دھرتا سیف الرحمٰن نے برطانیہ اور سویٹزرلینڈ میں آصف علی زرداری کے خلاف کارروائی شروع کرانے کی غرض سے یہ جھوٹا کیس رجسٹر کروایا تھا۔
واضح رہے کہ 1996ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف ہونے کے بعد سے آصف زرداری پر نیب ریفرینس سمیت 17مقدمات قائم ہوئے تھے۔
سینیٹر کھوسہ نے کہا کہ جِس حکومت کے دور میں مقدمات بنے اُس کے سربراہ نے پچھلے برس 14مئی کو میثاقِ جمہوریت میں یہ تسلیم کیا کہ مقدمے بے بنیاد ہیں۔
قومی مصالحتی آرڈیننس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سینیٹر کھوسہ نے کہا کہ سات مقدموں میں این آر او سے فائدہ اُٹھایا گیا ہے جب کہ بقیہ دس مقدموں میں آصف علی زرداری معمول کی کارروائی کے بعد بری ہوئے ہیں اور اُن کے بقول، این آر او والے سات مقدمے بھی اگر چلتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اُن کے شریک چیرمین اُن مقدمات میں بھی بَری نہ ہو جاتے۔