برما اپنے جنوب مشرقی ایشیائی ہمسایہ ملکوں کو گردباد نرگس سے شدید متاثرہ علاقوں میں غیر ملکی میڈیکل ٹیموں کو بھیجنے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی نگرانی کرنے کی اجازت دینے پر راضی ہوگیا ہے۔
یہ رضامندی اس الگ تھلگ ملک کی جانب سے ایک بڑی پیش رفت ہے جو3 مئی کو گرد باد آنے کے بعد سے امدادی ٹیموں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کررہا ہے۔ بین الاقوامی امداد کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی امداد اس سے کہیں کم ہے جو قحط اور بیماریوں سے بچنے کے لیےدرکار ہے۔
یہ فیصلہ پیر کے روز سنگاپور میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے ایک ہنگامی اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ نے طوفان کے متاثرین کے لیے غیر ملکی معاونت میں تعاون کے لیے ایک طریقہ کار طے کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
برما نے کہا ہے کہ گرد باد نرگس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 78 ہزار ہوگئی ہے اور لگ بھگ 56 ہزار افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔برما کا کہنا ہے کہ طوفان سے پہنچنے والا نقصان 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور پیر کے روز برما کے فوجی حکمرانوں نے اعلان کیا کہ منگل کے روز سے تین روز کا سوگ منائیں گے۔
پیر کے روز برماکی حکومت نے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی امور کے سربراہ جان ہومز کو اروادی ڈیلٹا کے علاقے میں دورہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہومز فوجی حکومت پر یہ زور دینے کے لیے اتوار کو رنگون پہنچے تھے کہ وہ بین الاقوامی امداد بڑھانے کے لیے اپنے ملک کے دروازے کھول دیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون اس ہفتے برما جائیں گے اور توقع ہے کہ وہ بدھ کو وہاں پہنچیں گے۔
اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے کہا ہےکہ برما کے فوجی حکمران تھان شوئے نے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا ٹیلی فون سننے سے انکار کردیا اور 3 مئی کے گرد باد کے بعد ان کی جانب سے بھیجے گئے دو خطوط کو بھی نظرانداز کردیا ہے۔
برما کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا ہے کہ تباہ شدہ علاقوں میں جنرل تھان شوئے نے ہفتے کے روز اپنا پہلا دورہ کیا۔ ٹیلی ویژن نے انہیں رنگون کے مضافات میں متاثرین کے کیمپوں کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا۔ برما کے سینیئر فوجی جرنیلوں اور دورے پر آنے والے اقوام متحدہ کے عہدےد اروں کے درمیان کسی اجلاس کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔