اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پوری دنیا کے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس بھی کم کر دیئے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے عالمی برادری سے 70 کروڑ ڈالرز کی امداد کے لیے اپیل کی ہے تاکہ بہت سے ترقی پزیر ممالک کی خوراک کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ مگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی عوام خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند مشوروں پر عمل کر کے صارفین اپنی رقم کا کم اور صحیح استمال کر سکتے ہیں۔
صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ خریداری کی عادت کو بدلنے کا یہ بہتریں موقع ہے۔ یونیورسٹی آف میزوری میں اخراجات کو کم کرنے کی ماہر کہتی ہیں کہ تھوڑی سی پلانگ سے بڑی بچت کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ وقت ہی پیسہ ہے۔
گیلپ کی طرف سے کیے گئے ایک حالیہ جائزے کے مطابق امریکہ کی تقریباً آدھی آبادی کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مشکلات سے دوچار ہیں۔ ماہر غذائیات ایلن شوسٹر کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ وہ کھانا ہے جو امریکی صارفین ضائع کرتے ہیں۔
ایلن شوسٹر کا کہناہے کہ چار افراد پر مشتمل ایک خاندان سبزیاں، پھل، گندم اور گوشت کو ملا کر ایک سال میں اوسطاً 600 ڈالر کی خوراک ضائع کرتا ہے۔ اگر آپ اس کے بارے میں سوچیں تو اس رقم سے آپ 10 مرتبہ 60 ڈالر کا پیٹرول ڈلوا سکتے ہیں اور اگر اس کو کنٹرول کر لیا جائے تو یہ ایک بڑی بچت ہو گی۔
شوسٹر کاکہنا ہے کہ اس سے بچنے کے لیے صارفین کو خریداری کرنے سے پہلے وہ چیزیں کھا لینی چاہیں جو ان کے پاس موجود ہیں اور اتنا ہی خریدیں جتنی ان کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ زیادہ مقدار میں خریداری نہیں کرنی چاہیے اور مشہور کمپنیوں کی چیزیں خریدنے کے بجائے عام کمپنیوں کی چیزیں خریدیں کیونکہ وہ نسبتاً سستی ہوتی ہیں۔ بند ڈبوں کا جوس مہنگا ہوتا ہے وہ خریدنے کے بجائے خود سے تازہ جوس بنایئں کیونکہ جو لوگ پیسے بچانا چاہتے ہیں وہ کھانا گھر پر ہی کھاتے ہیں۔