گذشتہ سال جب امریکہ کے صدارتی انتخابات کی نامزدگی کی مہم شروع ہوئی تو اکثر مبصرین کا خیال تھا کہ 2008 ڈیموکریٹک پارٹی کاسال ہے۔ لیکن مبصرین کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی جس چیز کے لیے تیار نہیں ہے وہ ہے اتنے اہم صدارتی انتخابات میں اپنی پارٹی کو متحد رکھنے کا چیلنج۔
اب صورت حال پیدا ہوئی ہے سینیٹر ہلری کلنٹن اور سینیٹر براک اوباما کے درمیان اپنی پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے لیے کانٹے دار مقابلے کی وجہ سے۔ اب آخر کار ڈیموکریٹک پارٹی نے فلوریڈا اور مشی گن کے ڈیلی گیٹس کو اس سال اگست میں ہونے والے پارٹی کنونشن میں شامل کرنے کا فیصلہ تو کرلیا ہے مگر وہاں کے ڈیلی گیٹس کے ووٹ نصف شمار کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں براک اوباما کی اپنی حریف پر برتری برقرار رہی ہے اور انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ہلری کلنٹن اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔
مبصرین کے مطابق منقسم رائے نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے اچھا شگون ہر گز نہیں ہے کیونکہ اسے گذشتہ دس میں سے سات صدارتی انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی لیے پارٹی کو متحد رکھنے والوں کی خواہش ہے کہ حتمی امیدوار کا فیصلہ پرائمریز کے آخری مراحل سے پہلے ہی ہوجائے۔
اب وہ آخری مرحلہ بھی آہی گیا ہے۔ 3 جون کو دو امریکی ریاستوں مونٹینا اور ساؤتھ ڈیکوٹا میں آخری پرائمریز ہورہے ہیں۔ اور پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے عہدے دار مختلف پہلوؤں پر سوچ بچار کررہے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ براک اوباما صدر اور ہلری کلنٹن نائب صدر کے طورپر مل کر اپنی مہم چلائیں۔