 |
|
مارٹن برکافسکی |
مارٹن برکاسکی عالمی شہرت کے حامل پیانو نواز ہیں۔ انہوں نے یہ مقام حاصل کرنے کے لیے ان تھک محنت کی ہے۔ ان کی عمر 89 سال ہے اور اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اپنا مستقبل بنانے کے لیے میں نے بہت جدو جہد کی ہے۔ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ کوئی شخص اور کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں میں نہیں گیا۔ یعنی کوئی کنسرٹ منیجر، کوئی ریکارڈنگ پروڈیوسر میں ہر ایک کے پاس گیا۔
انہوں نے 8 سال کی عمر سے کنسرٹ شروع کردیے تھے اور جب وہ 20 سال کے ہوئے تو ان کی شہرت سرحدوں سے باہر نکل کر دنیا بھر میں پھیل چکی تھی مگر پھر 1982 میں ان کے زندگی میں ایک اہم موڑ آگیا۔ ابھی وہ چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ موٹر سائیکل کے ایک حادثے کا شکار ہوگئے۔ ان کی کمر میں چوٹ آئی اور دائیاں ہاتھ آٹھ جگہوں سے ٹوٹ گیا۔ ڈاکٹروں نےاسے بتایا کہ وہ اب کبھی اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کرسکےگا۔
برکاسکی کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے بعدمیں چار ماہ تک سیدھا لیٹا رہا۔اور مجھے سوچنےکا ایک بہترین موقع ملا۔ 1982 میں کرسمس کے موقع پر جب میں اسپتال میں تھا تومیرے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب میرے کنسرٹ، میری ریکارڈنگ ، میری ساری سرگرمیاں اور جو کچھ مزید میرے لیے ممکن ہوا، میں انسانیت کی خدمت کروں گا اور اس روز سے میں یہی کررہا ہوں۔
اب انہیں انسانیت کی بھلائی کے پیانونواز کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہوں نے پیانو کی تعلیم دینی شروع کی اور دنیا بھر میں پیانو کی کلاسیں لیں۔ موٹر سائیکل کے حادثے کے 18 سال بعد 2000 میں ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ وہ کنسر میں مبتلا ہوچکا ہے اور اس کی منزل موت ہے۔
مگر برکانسکی نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اوکلاہاما کے ایک کینسر اسپتال میں اس موذی مرض کو شکست دے دی۔ 2003 میں انہوں نے دوبارہ زندگی ملنے اور اپنی60 ویں سالگرہ کا جشن منایا۔ اور وہ اس طرح کہ انہوں نے اوکلاہاما کے کینسر اسپتال سے اس کے دوسرے مرکز شکاگو تک 14 سو کلومیٹرکا سفر پیدل طے کیا۔ اس سفر میں انہیں چار مہینے لگے۔ اپنے اس سفر کے دوران انہوں نے جگہ جگہ کنسرٹ کیے اور کینسر کی تحقیق کے لیے 80 ہزار ڈالرسے زیادہ اکٹھے کیے۔ تب سے برکا سکی اپنے فن سے انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔
2004 میں روس کے شہر بیسلن میں اسکول کے بچوں کے قتل عام نے انہیں کنسرٹس کر کے قصبے کے لوگوں کی مدد پر ابھارا۔ اسی طرح انہوں نے روس کی ان کمیونیٹیز کی مدد کے لیے کنسرٹس کیے جو یتیم بچوں اور بے سہارا خاندانوں کے لیے کام کرتی ہیں۔
برکوف سکی کی توجہ اب اپنے ایک ساتھی ایلن کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے پر مرکوز ہے۔ان کے اس کمپوزر ساتھی کا 2000 میں 89 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔ برکا سکی کئی عشروں سے ان کی موسیقی پیش کررہے ہیں۔
اپنے دوست کو امر کرنے برکاسکی کا خواب آرمینیا کے شہر یروان میں ایلن ہوف نس انٹرنیشنل ریسرچ سنٹر کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اس سینٹر میں ایلن کی موسیقی اور ان کے نظریات پر کام ہورہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمیں موسیقی کے ذریعے لوگوں کو متحد کرنا ہوگا۔ ہم اس دنیا میں خوبصورتی کے ساتھ اور وابستگی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔