نابینا بریل رسم الخط کے ابھرے ہوے نقطوں کے ذریعے پڑھتے ہیں
عمران الطاف اور ان کی بہن حنا الطاف جب پیدا ہوئے تو وہ بصارت سے محروم تھے۔ مگر ان میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا اور وہ اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جب انسان کوئی پختہ ارادہ کرلے تو راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہتی۔ ان دونوں کے ساتھ بھی یہی ہوا اور حصول علم کا شوق انہیں امریکہ لے گیا۔
ان دنوں وہ پاکستان میں اپنے والدین کے پاس چھٹیاں گذارنے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ عمران الطاف کا کہنا ہے کہ امریکہ میں تعلیم بہت مہنگی ہے اور تعلیمی اداروں کی فیس اور دوسرے اخراجات کا بندوبست کرنا ایک مشکل کام ہے۔
ان کے تعلیمی اخراجات امریکہ میں رہنے والے پاکستانی مخیر افراد برداشت کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کرسکیں۔