کوئی بھی انسان برا پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کے اردگرد کا ماحول اور حالات اسے اچھا یا برا بنا دیتے ہیں۔ ایک امریکی تنظیم بوائے ٹو مین ایسے افراد کے لیے کام کرتی ہے جو حالات اور ماحول کے گرداب میں پھنس کر برائی کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔
اس گروپ کا کام نوجوانوں کو سیدھا راستہ دکھانا ہے اور ایک اچھا انسان بننے کے لیے گم کردہ نوجوانوں کی راہنمائی کرنا اور حوصلہ بڑھانا ہے۔ اس گروپ کے ایک نوجوان بن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے آپ کو ضرور سوچنا چاہیے۔ اگر کوئی غصے یا انتقام میں کسی کو ہلاک کرنے کا سوچتا ہے تو اسے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس کے بعد کا منظر کیا ہوگا۔ اسے خود کن حالات سے گذرنا پڑے گا اور یہ کہ اس کے خاندان پر کیا گذرے گی۔
ایک اور نوجوان کلاڈ کا کہنا ہے کہ میری نوعمری کے کئی سال سڑکوں پر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ گذرے۔ پھر میں اس گروپ میں شامل ہوگیا۔ اب مجھ میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ میں ماضی سے یکسر مختلف ہوں اور ڈگری حاصل کرنے کے لیے کالج میں پڑھ رہا ہوں۔
سٹیو اس تنظیم سے وابستہ ہیں اور وہ بھٹکے ہوئے نوجوانوں کی راہنمائی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں زیادہ تر ان کی باتیں سنتا ہوں ، انہیں زیادہ سے زیادہ بولنے کا موقع دیتا ہوں۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ اپنے اندر کی آواز سنیں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اندر کی آواز ہی انسان کو صحیح راستہ دکھاتی ہے۔