 |
|
ہاٹ ڈاگ |
پاکستان میں ایسے بہت سے نوجوان ہیں جو امریکہ آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ جو لوگ کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ جاتے ہیں جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہوئے خواب ان کےسامنے سوالیہ نشان بن کرکھڑے ہوجاتے ہیں۔ امریکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہاٹ ڈاگ بیچنے والےہمایوں کبیر ایک ایسے ہی پاکستانی ہیں۔
ہمایوں کبیر کو امریکہ آئے ہوئے چودہ برس سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے کئی جگہ کام کیے مگرتنخواہ کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنا ذاتی کام کرنے کا سوچا۔ تب سے وہ واشنگٹن ڈی سی میں ایک ٹھیلے پر ہاٹ ڈاگ بیچ رہے ہیں۔
ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ بظاہر ہاٹ ڈاگ بنانا آسان لگتا ہے مگر یہ ایک مشکل کام ہے۔ اول تو صبح کے وقت واشنگٹن آنا اتنا آسان نہیں ہے۔ راستے میں اتنا رش ہوتا کہ یہاں تک پہنچنے میں دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ پھر واشنگٹن میں پارکنگ نہیں ملتی۔ پرائیویٹ پارکنگ اتنی مہنگی ہے کہ اگر وہاں گاڑی کھڑی کریں تو کمائیں کیا۔ میٹر پر گاڑی کھڑی کرتا ہوں۔ مگر اسے وہاں سے ہر دوگھنٹے بعدہٹنا ہوتا ہے۔ ذرا بھول چوک ہوجائے توگاڑی پر ٹکٹ لگ جاتا ہے۔
ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ مجھے روزانہ تقریباً 14 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ مگر پھر بھی کوئی خاص آمدنی نہیں ہوتی کیونکہ یہاں ٹیکس بہت زیادہ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر میں اتنی محنت اپنے ملک میں کرتا تو کہیں زیادہ خوش حال ہوتا۔ وہ بچوں کی تعلیم مکمل ہونے پر پاکستان واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکہ آنے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ملک میں رہ کر محنت کریں تو وہ ان کے لیے امریکہ سے بہتر جگہ بن سکتی ہے۔