کہنے کو تو دنیا سے غلامی کا خاتمہ ہوئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن آج بھی دنیا کے بیشتر حصوں میں غلامی ایک دوسرے نام سے موجود ہے۔ اور وہ ہے ہیومن ٹریفکنگ، یعنی انسانوں کی سمگلنگ جس کا نشانہ بننے والوں سے یا تو جبری مشقت لی جاتی ہے یا انہیں جنسی کاروبار میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اور یہ سمگلنگ صرف غریب اور ترقی پذیر ممالک ہی میں نہیں ہوتی بلکہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی جدید دور کے غلاموں کی منزل بنتے ہیں۔
اسی لیے حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بتایا کہ امریکہ اس غیر انسانی کاروبار کے سدباب کے لیے ہر سال پانچ کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔
یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں دنیا کے 161 ممالک ملوث ہیں، اور اس کا سدباب کسی ایک ملک کا کام نہیں، اسی لیے اقوام متحدہ کے ادارے گلوبل انیشییٹیوٹ ٹو فائٹ ہیومن ٹریفکنگ یا یو این گفٹ کے تحت اس موضوع پر پہلے تو اس سال فروری میں وئینا میں ایک عالمی فورم رکھا گیا اور حال ہی میں نیو یارک میں جنرل اسمبلی میں ایک پورا دن اس موضوع کے لیے وقف کیا گیا۔ اسمبلی کے صدر سرجن کریم نے اس جرم کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کی دنیا میں انسانوں کو کسی برائی کا سامنہ ہے تو منشیات کی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ انسانی سمگلنگ ہے۔
جنوبی ایشیا میں ہر سال کم از کم ڈیڑھ لاکھ لوگ اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ جس میں نوجوانوں، عورتوں اور بچوں کو یا تو اغوا کر کے، یا دھوکہ اور بہتر نوکری کا لالچ دے کر ملک کے مختلف حصوں یا دیگر ممالک بھیجا جاتا ہے۔
یو این گفٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں عورتوں اور بچوں کی سمگلنگ بڑھتی جا رہی ہے اور اس ظلم کے خلاف شعور پیدا کرنے کے علاوہ دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔