اناکانڈا اور پایتھان دنیا کے سب سے بڑے سانپوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ایناکانڈا وزن میں سب سے بھاری ہوتے ہیں اور پایتھان اپنی لمبائی کے لحاظ سے سب سے بڑے ہوتے ہیں۔ انسان سانپوں سے قدرتی طور بہت خوف کھاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہالی وڈ کی کئی فلموں میں سانپوں کو ولن کے رول بھی مل چکے ہیں۔
ایسی خبریں تو آپ کی نظر سے گذرتی ہوں گی کہ کسی اژدھے نے انسان پر حملہ کردیا۔ کیا اس خبر میں کوئی حقیقت ہوتی ہے اور کیا واقعی کوئی اژدھا انسان کو اپنا ہدف بنا سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب آپ کومل سکتا ہے شانٹلی ور جنیا میں ہونے والی ریپٹایل بریڈرس کانفرنس سے۔ اس کانفرنس میں پورے امریکا سے ریپٹایل بریڈرز جمع ہوتے ہیں۔ریپٹایل بریڈڑز وہ لوگ ہیں جوسانپ، بچھو، اژدہے اور مختلف اقسام کے ریپٹایلز پالا کرتے ہیں۔
اس کانفرنس میں تقریباً آٹھ سو ریپٹائلز رکھے گئے تھے۔ جدھر نظر اٹھتی تھی اژدھے اور سانپ دکھائی دیتے تھے۔ ان میں مختلف اقسام کے پاتھان اور بوا کنسٹرکٹر بھی شامل تھے۔
عام تاثر کے برعکس اژدہا زہریلا سانپ نہیں ہوتا۔ وہ اپنے شکار کو اپنے دانتوں میں جکڑ لینے کے بعدخود کو اس کے گرد لپٹ کر اسے کچل ڈالتا ہے۔ شکار کو مارنے کے بعد وہ اسے نگل جاتا ہے۔
امریکہ کے اندر سانپوں کو پکڑنے اور ان پر قابو پانے کے لیےکئی طرح کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر آلات پاکستان سے بن کر آتے ہیں۔
کیا واقعی اژدھا انسان کے لیے خطرناک ہے؟ اگرچہ کبھی کبھار ایسی خبریں سامنے آتی ہے کہ کسی اژدھے نے کسی انسان کو ہلاک ردیا مگر ریپٹایل بریڈر کنویشن میں زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اژدھاوں سے انسان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔