 |
|
صدر بش |
صدر بش کے دورِ صدارت کے اختتام سے چند ماہ قبل اس دورے کو ان کا الوادعی دورہِ یورپ قرار دیا جارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ تاریخ میں صدر بش وہ امریکی صدر ہیں جن کے دور میں یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں قدرے سرد مہری دیکھنے میں آئی اور اب شائد صدر بش اپنی صدارت کے اختتام سے قبل دینا کی دہ اہم طاقتوں کے درمیان تعلقات کو مظبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
امریکہ یورپ تعلقات میں سرد مہری عراق کی جنگ سے قبل دیکھنے میں آئی لیکن گزشتہ چند برسوں سے مراسم معمول پر آرہے ہیں۔ خصوصاً صدر بش کے دوسرے دورِ صدارت میں وائٹ ہاوس نے یورپ سے تعلقات بہتر بنانے کو کوشش کی۔
صدر بش نے کہا کہ یورپ اور شمالی امریکہ کا اتحاد ہماری حفاظت کے لیے ایک اہم ستون ہے اور ہمارے مظبوط تجارتی تعلقات پوری دنیا کی معیشت کے لیے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ ہمارے ممالک میں سیاسی اور معاشی آزادیاں غربت اور جبر کا سامناکرنے والے کروڑوں لوگوں کے لیے امید کا باعث ہے۔
صدر بش نے اپنے دورِ صدارت کے دوسرے دور کے شروع میں ایک سال کے دوران یورپ کے تین دورے کیے اور وہ پہلے امریکی صدر ہیں جوبرسلز میں یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز گئے۔
بعض مبصرین کے مطابق اس دورے کا مقصد عراق کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرناتھا۔ تجزیہ کار جان گلین کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ اور یورپ کے تعلقات کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہے کہ عراق کے معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا جائے اور صرف ان امور کو زیرِ بحث لایا جائےجو کے عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے متعلق ہیں۔ ایسے امور جن سے ہمیں مشترکہ طور پر نمٹا ہے اوران امور کی فہرست کافی طویل ہے۔
ان امور میں ایران اور چین اور روس کا اقتصادی قوتوں کی حیثیت سے ابھرنا شامل ہے۔ خصوصاً ایران کے معاملے پر صدر بش نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی سفارتی کوششوں پر کافی انحصار کیا۔
جون گلین نے امریکہ اور یورپ کے بہتر ہوئے ہوئے تعلقات کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں اس قسم کا شدید اختلافِ رائے بہت کم ہی دیکھنے میں آتا ہے جیسا کہ عراق کی جنگ کے معاملے پر دیکھنے میں آیا۔ یورپ کو یقیناً اس بات کی شکایت تھی کہ جس طرح مشرقِ وسطی کے دیگر امور پر مشاورت کی جاتی رہی ہے، اس قسم کی مشاورت عراق کے معاملے پر نہیں کی گئی۔ لیکن اب امریکہ اور یورپ کے تعلقات خاصی حد تک بہتر بلکہ کافی کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
اپنے دورِ صدارت کے آخری برسوں میں صدر بش کو یورپ میں نئی قیادت سے ڈیل کرنے کا موقع ملا مثلاً جرمنی کی چانسلر اینگلا مارکل اور فرانس کے صدر نکولس سرکوزی جو کہ یورپی مبصرین کے مطابق بہت سی تبدیلیاں لائے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک سائس کے اسکالر ریگینالڈ ڈیل کہتے ہیں کہ سرکوزی کو تو ان کی انتخابی مہم کے دوران جو عرفیت دی گئی وہ تھی امریکی اور انھوں نے نہ صرف امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کی بات کی بلکہ امریکہ کو سراہا بھی۔
ڈیل کے مطابق یہ اپروچ بہت سود مند ثابت ہورہی ہے۔
ریگینالڈ ڈیل کا کہنا تھا کہ یورپ میں اب صدر بش کے بارے میں پائے جانے والے مخالفانہ جذبات میں کمی آرہی ہے۔ یورپ میں رائے عامہ صدر بش کے لیے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ ناموافق نہیں اور امریکہ مخالف جذبات پہلے کے مقابلے میں کم ہیں۔
یورپ میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یورپ میں امریکہ مخالف جذبات میں کمی کی بڑی وجہ یہ احساس ہے کہ عنقریب وائٹ ہاوس میں تبدیلی آنے والی ہے اور یہ بھی کہ دنیا کو درپیش شدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یورپ اور امریکہ کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق مسائل کے باوجود جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے معاملے پر یورپ اور امریکہ کی اقدار مشترک ہیں اوریہ ایک مضبوط رشتے کا کام کرتی ہیں۔