جویریہ اسد کراچی میں رہتی ہیں۔ ان کا ایک بھائی بولنے اور سننے کی قوت سے محروم ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی کو حالات کے سپرد کرنے کی بجائے اسے معاشرے کا ایک مفید فرد بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ نہ صرف یہ کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہ رہے بلکہ وہ خود دوسروں کا سہارا بن سکے۔
انہوں نے اپنے گھر پر اپنے بھائی اور اس کے چند ایسے ساتھیوں کی تعلیم و تریبت کاسلسلہ شروع کردیا جو اسی کی طرح بولنے اور سننے سے محروم ہیں۔ وہ انہیں مختلف دست کاریاں ، زیورات اور دوسری چیزیں بنانا سکھا رہی ہیں۔ جویرہ کا کہنا ہے کہ ایسے ہنر انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور باعزت روزگار حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
جویریہ نے انہیں پڑھانے کے لیے اشاروں کی زبان سیکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس پراجیکٹ کو وسعت دینا چاہتی ہیں مگر ان کے پاس فنڈز کی کمی ہے اور اس کے لیے انہیں مالی تعاون کی ضرورت ہے۔