Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

مستقبل کے بارے میں چند خوش کن پیش گوئیاں


June 11, 2008

brain stimulation
گذشتہ ہفتے نیویارک میں ایک سائنسی میلہ برپا کیا گیاجس میں سائنس اور انسان کے مستقبل کے بارے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی گئیں اور ایسی ایجادات کے منصوبے پیش کیے گئے جن سے انسان کی زندگیوں پر انتہائی گہرے اور دور رس  اثرات پڑیں گے۔

ایسی چند ایجادات کے نمونے ملاحظہ ہوں:

کیا آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں آپ کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں؟ فکر نہ کیجیئے، دس برسوں کے اندر اندر ایک ایسی دوا مارکیٹ میں آ جائے گی جس کے استعمال سے آپ جو چاہیں کھائیں، وزن میں اضافہ نہیں ہو گا۔

کیا گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج اور دنیا کی بڑھتی ہوئی حدت کی فکر میں  آپ کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں؟ اطمینان رکھیے، 20 سال کے اندر اندر شمسی توانائی کے میدان میں اتنی ترقی ہو جائے گی کہ اس سے دنیا کی توانائی کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں گی۔

اسی میلے میں شامل ایک سائنس دان ڈاکٹر کرزوائل نے  ایک اور خوش کن قیاس آرائی بھی کی ۔ انھوں نے کہا کہ اگلے 15 برس کے اندر اندر طبی سائنس اتنی ترقی کر لے گی کہ انسان کی متوقع عمرمیں اس سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا جتنی تیزی سے وہ بوڑھا ہوتا ہے۔ اور اکیسویں صدی کے نصف تک پہنچتے پہنچتے انسان اور کمپیوٹر کا ادغام ممکن ہو جائے گا، جس کے بعد  موت کا تصور ہی فنا ہو جائے گا۔

اگرچہ اس بات پر یقین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر کرزوائل کے ناقدین بھی یہ مانتے ہیں کہ وہ ہوا میں تیر نہیں چلاتے بلکہ ان کی تحقیقات ٹھوس سائنسی حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔

association computing chess contest participants 26mar03 eng 150.jpg
مثال کے طور پر انھوں نے 1990ء پیش گوئی کی تھی کہ 1998ء کے آتے آتے کمپیوٹر شطرنج کے کھیل میں اس کے عالمی چیمپیئن کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اگرچہ اس وقت اکثر لوگوں نے اس خیال آرائی کا مذاق اڑایا لیکن 1998ء سے ایک برس پیشتر ہی آئی بی ایم کمپنی کے تیار کردہ ’ڈیپ بلو‘ نامی کمپیوٹر نے شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو ہرا کر دنیا بھر کو حیران کر دیا۔

 

اسی طرح ڈاکٹر کرزوائل نے 1980ء کے عشرے ہی میں انٹرنیٹ کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کی پیش گوئی کی تھی جو بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بعض شعبوں میں حیرت انگیز تیزی سے ترقی ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ایک صدی قبل کی مشینوں کی صلاحیت ہر تین سال بعد دگنی ہوتی تھی۔ بیسویں صدی کے وسط میں یہ رفتار بڑھ کر  دو سال ہو گئی۔ آج کل مشینیوں کی صلاحیت ہر سال دگنی ہو جاتی ہے۔

 

ڈاکٹر کرزوائل کا دعویٰ ہے کہ آج کے دور میں بایالوجی، طب، توانائی اور دوسرے شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے انقلاب آ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 2020ء تک اس ترقی کی وجہ سے انسان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ دماغ میں کمپیوٹر چِپ داخل کر سکے اور ایسے کمپیوٹر تیار کر سکے جو انسانوں جتنے ہی ذہین ہوں۔

 

تاہم اسی میلے میں شامل ایک نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر رام چندرن نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے ڈاکٹر کرزوائل سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ انسان ایک ذہین اور سوچنے والا کمپیوٹر تو بنا ڈالے لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ انسانی دماغ کی صلاحیت کو کمپیوٹر چِپ لگا کربہتر بنایا جاسکے کیوں کہ دماغ کروڑوں برس کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے اور اس کے سرکٹ انتہائی بے ترتیب اور من مانے ہیں۔  

 

کئی دوسرے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انسان جیسا ذہین کمپیوٹر بننا تو ممکن ہے لیکن اس پر بہت وقت لگے گا۔ لیکن تمام تر تنقید کے باوجود ڈاکٹر کرزوائل اپنی پیشن گوئیوں کے سلسلے میں اتنے پر یقین ہیں کہ انھوں نے دس ہزار ڈالر کی شرط لگائی ہے کہ 2029ء تک ایسا کمپیوٹر معرضِ وجود میں آ جائے گا جو ٹورنگ ٹیسٹ سے کامیابی سے گزر جائے۔ اس ٹیسٹ کی شرط یہ ہے کہ  کمپیوٹر  انسان کے ساتھ اتنی ذہانت سے گفتگو کر سکے کہ اسے اس بات کا پتا نہ چل سکے کہ اس سے کوئی مشین مخاطب ہے۔

 

ڈاکٹر کرزوائل کی پیشن گوئیوں میں سے اگر کچھ بھی درست ثابت ہوئیں تو سوچیے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کا کیا نقشہ ہو گا۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
بھکر خود کش حملے کی تحقیقات جاری

  مزید خبریں
امریکی معیشت دوسرے صدارتی مباحثے کا ایک اہم موضوع بن سکتی ہے  Video clip available
پاک امریکہ کشدیدگی کا فائدہ القاعدہ کو ہوگا: امریکی تھنک ٹینکس  Video clip available
امریکی آٹو انڈسٹری بھی بحران کی لپیٹ میں،ستمبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 27 فی صد کمی   Video clip available
زرداری بیان: کشمیر میں شدید مذمت، بھارتی حکومت کا خیر مقدم
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
صدارتی انتخابات میں چار ہفتے باقی: انتخابی مہم میں گہما گہمی
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
دارفر کے کلمہ کیمپ کی حفاظت کے لیے امن کار تعینات
زمبابوے میں شراکت اقتدار کے مذاکرات
ترک فضائیہ کا شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر حملہ
بہار کے سیلاب زدگان کی عید
ملائیشیا کے مقبول بلاگر کو الزام تراشی کے مقدمے کا سامنا
مالی مشکلات کے پیشِ نظر، پاکستان کی  ریٹنگ میں کمی
مصری پولیس نے غزہ کی پٹی میں طبی سامان لے جانے سے روک دیا
کرغزستان میں زلزلے سے 60 افراد ہلاک
2008 کا نوبیل انعام تین یورپی سائنس دانوں نے حاصل کرلیا
عالمی عدالت کے استغاثہ کی جانب سے یوگنڈا کے باغیوں کی گرفتاری کی اپیل
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک