 |
|
صدر بش |
امریکی صدر بش نے ایک برطانوی روزنامے سے کہا ہے انھیں افسوس ہے کہ 2003ء میں عراق پر حملے سے قبل انھوں نے جو باتیں کیں ان سے ایسا تاثر ملا کہ وہ جنگ شروع کرنے کے لیےبے چین ہیں۔
بدھ کے روز اخبار ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر بش نے کہا کہ انھیں چاہیئے تھا کہ وہ دشمنوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مختلف الفاظ استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے کہ ’دشمنوں کو سامنے لاؤ‘ اور ’زندہ یا مردہ‘جیسے بیانات کی وجہ سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ میں امن پسند شخص نہیں ہوں۔
صدر بش نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس پر بھی پریشانی ہے کہ امریکہ کو حملے سے پہلے کیوں غلط سمجھ لیا گیا تھا اور انہوں نے جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
امریکی راہنمانے،جو صدر کے طور پر اپنی آخری مدت گذار رہے ہیں، کہا کہ وہ اپنے صدارتی عہدے کے آخری مہینوں کو فلسطینی مملکت کی تشکیل جیسے مسائل پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔صدر بش نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وہ اپنے پیچھے ایسے لائحہٴ عمل چھوڑ جائیں گے جس سے اگلے امریکی صدر کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔