چینی
دارلحکومت بیجنگ میں اگست میں ہونے والے اولمپکس کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ 21 روز تک جاری رہنے والے ان مقابلوں میں دنیا بھر سے 10
ہزار سے زیادہ کھلاڑی شرکت کریں گے۔
عالمی
مقابلوں میں کھلاڑی اپنی ذاتی کامیابی سے بالا تر ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتں
بروئے کار لاتےہوئے قوم و ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے کم وبیش
ہر ملک میں اولمپک میں شرکت کے لیے کھلاڑی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں
سنیگال کی اتھلیٹ امیناتا بھی ہیں۔ وہ بیوٹی سیلون کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے اپنا بیوٹی سیلون بند کر کے دوڑ کی پریکٹس شروع کردی ہے۔ وہ تیسری بار
اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گی۔امیناتا اسے جذبوں سے بھرپور تجربے
کانام دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں
کہ میں خود کو ایک ایسا سفیر سمجھتی ہوں جسے
خود پر ناز ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو دو سوفی صد
کام میں لے آتا ہے۔ آپ کی منزل قوم کی توقعات پوری کرنا ہے۔
اولمپکس میں
کھلاڑیوں پر پرامن ماحول اور اپنے ملک کا نام بلند کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔ ڈیوڈ ویل
چن سکی کا کہنا ہے کہ اولمپک کمیٹی کئی برسوں سے قومیت کا پرچار روکنے کے لیے یہ
بتانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتی ہے کس ملک نے کتنے میڈل جیتے ہیں۔
ڈیوڈ ویل چن
سکی کا کہنا ہے کہ میرا مطلب یہ ہے کہ میڈیا کے مرکز ی سینٹر میں رپورٹر یہ دیکھتے
ہیں کہ ان کے ملک نے کتنے میڈل جیتے۔ اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم یہاں ایک بورڈ پر
لکھ دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کو کتنے میڈل ملے لیکن کمیٹی اس بارے میں کوئی بات نہیں
کرتی۔ آپ جو چاہے کریں۔
وطن سے محبت
کھلاڑیوں میں ذاتی کامیابی کی بجائے ایک خاص جذبے کو ابھارتی ہے۔ 17 سالہ فلسطینی
اتھلیٹ غدیر غروف کو توقع ہے کہ وہ اولمپک میں حصہ لے کر دنیا کی توجہ فلسطینیوں
کے دکھوں کی جانب مبذول کراسکتی ہیں۔
غدیر کا
کہناہے کہ میں وہاں فلسطین کی نمائندگی کرنے جارہی ہوں۔ ایک ایسا ملک جو لوگوں کی
نظر میں غیر متعلقہ ہے۔ وہ غیر متعلقہ نہیں
ہے۔ وہاں کے لوگ ہم ہی جیسے ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں۔ میں یہی بتانے اولمپکس میں
جارہی ہوں۔
اولمپک میں
کسی کھلاڑی یا ٹیم کی کامیابی ، چاہے مختصر وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو وہ اپنے ملک
میں یک جہتی کو فروغ دیتی ہے۔ 2004 کے ایتھنز کے اولمپکس میں عراق کی فٹ بال ٹیم غیر
متوقع طور پر سیمی فائنل میں پہنچ گئی تھی جس نے
شورش اور تشدد میں گھرے ہوئے ملک کو کچھ عرصے کے لیے امید اور اتفاق کی راہ
پر ڈال دیا تھا۔ امریکی اولمپک کمیٹی کے ایک پروگرام سے منسلک جان رجسٹر کا کہنا
ہے کہ اولمپک دشمنوں کے درمیان مصالحت کی جگہ بھی بن سکتی ہے۔
اولمپک کے
اکثر کھلاڑی یہ جانتے ہیں کہ ان کا طرز عمل اُن کے ملک کے بارے میں تاثر قائم کرتا
ہے۔ امریکی فوج سے وابستہ اتھلیٹ مکی کیلی کا کہنا ہےکہ آپ کو قدرے بلند نظر آنا
ہوتا ہے اور یہ یاد رکھنا ہوتاہے کہ آپ کے پیچھے آپ کے ملک کے لوگ ہیں۔ چنانچہ آپ
کو اپنے ملک اور قوم کی عزت اور سربلندی کے لیے سخت محنت کرنی ہوتی ہے۔
اولمپکس میں
پوری قوم کی نظریں اپنے کھلاڑیوں پرجمی ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنے ملک وقوم کانام بلند کرنے کے لیے اپنی پوری
قوت اور صلاحیتوں کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں اور پرانے ریکارڈ توڑ کر نئے ریکارڈ
قائم کرتے ہیں۔