 |
| امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس |
امریکی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس نے لبنان کی نئی مخلوط
حکومت کے لیے اپنی حمایت کے اظہار اور وہاں کے مغربی حمایت یافتہ راہنماؤں سے
ملاقات کے لیے لبنان کا غیر اعلانیہ دورہ
کیا ہے۔
پیر کے روز اسرائیل سے بیروت کے سفر پر اپنے ساتھ موجود
نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ لبنان کے نومنتخب
صدر مائیکل سیلمان، وزیر اعظم فواد سنیورا، پارلیمنٹ کے اسپیکر نبی بیری اور
اکثریتی لیڈر سعد حریری سے ملاقات کا ارادہ رکھتی ہیں۔
لبنان میں گذشتہ ماہ شراکتِ اقتدار کے معاہدے کے بعد سے وہ
صدر سلیمان کے ساتھ ملاقات کرنے والی امریکہ کی پہلی اعلیٰ عہدے دار ہوں گی۔
اس خوش آئند معاہدے
سے جو عرب ثالثوں کی مدد سے طے پایا تھا، لبنان میں 18 ماہ کے طویل سیاسی
بحران کا خاتمہ ہوا اور وہ ایرانی حمایت
یافتہ حزب اللہ کے حق میں اقتدار کے ایک نئے توازن کا باعث بنا۔
پیر کو امریکی وزیر خارجہ رائس نے اسرائیل کے ساتھ اپنے دو
روزہ مذاکرات کا اختتام کیا ۔ اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیلی اور فلسطینی لیڈورں کی جانب سے امن
معاہدے کے حوالے سےمعمولی پیش رفت ہوئی ہے۔امریکہ اس سال کے آخر تک دونوں قوموں کےدرمیان کسی معاہدے کا خواہش مند
ہے۔
کانڈولیزا رائس نے پیر کی صبح اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود
بارک اور فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاض کے ساتھ سہ طرفہ مذاکرات کیے۔
اپنے دورے کے دوران انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور
مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی توسیع کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ
سرزمین پر گھروں کی مسلسل تعمیر سے مشرق وسطیٰ مذاکرات پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔