Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

واشنگٹن کے نیوزیم کی دیوار پر کئی پاکستانی صحافیوں کے نام درج ہیں


June 18, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

[insert caption here]

سچ کی تلاش میں جان قربان کرنے والے  صحافیوں کی  ایک یادگار واشنگٹن ڈی سی میں قائم کی گئی ہے جو اس شہر  کے سب سے جدید نیوز میوزیم  کا حصہ ہے۔ نیوزیم کے سینئیر ایڈیٹر ڈان راس کے مطابق  خطرے   سے جان بچا کر بھاگنا ایک  فطری  رد عمل ہے مگر گوشت پوست کے انسانوں میں چند کردار ایسے بھی ہوتے ہیں جو خطرے سے دور نہیں بلکہ خطرے کی طرف بھاگتے ہیں۔ یہ  تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، پولیس مین ،فائر مین اور جرنلسٹ۔ جرنلسٹ میموریل کی دیوار  پر ان ایک ہزار آٹھ سو تینتالیس صحافیوں کے نام درج ہیں  جنہوں نے  صحافتی اصولوں کو قربان کرنے کے بجائے اپنی جان قربان کرنا مناسب سمجھا۔ یہاں موجود  تصویریں  صحافت کے پیشے کی حقیقی قیمت ادا کرنے والے انہی صحافیوں  کی  ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت  ہیںکہ میڈیا کی ترقی نے سچ کا سفر تیز تر اور صحافیوں کے لئے خطرات میں  اضافہ کر دیا ہے۔

ڈان راس کے مطابق اس دیوار پر سب سے پہلا نام جس صحافی کا ہے وہ 1837 میں مارا گیا تھا۔ ۔ اس وقت سے 2000 تک کے زمانے کے درمیان جو نام ہیں ان کی تعداد خاصی کم ہے۔ مگر 2000 کے بعد یہ تعدادبہت زیادہ نظر آتی ہے۔جرنلزم میموریل کے سینئیر ایڈیٹرڈان راس کہتے   ہیں کہ جب کسی صحافی کو جان بوجھ کر مارا جاتا ہے تو نیوز کے بزنس میں یہ بڑی خبر ہوتی ہے ،اور   آج کے زمانے میں چھپ نہیں سکتی۔ ڈان راس مانتے ہیں کہ اٹھارویں صدی سے  سن 2000 کے عرصے کےدوران مرنے والے صحافیوں کی کم تعداد اورگزشتہ آٹھ سالوں میں اس تعداد میں اچانک ریکارڈ کئے گئے۔  اضافے کی ایک وجہ خبروں کی ترسیل کے زیادہ برق رفتار اور ترقی یافتہ ذرائع ہوسکتے ہیں مگران کا کہنا ہے کہ  عراق جنگ کے آغاز کے بعد سے صحافیوں کا  منہ بند کرانے کی خواہش میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2007 میں مرنے والے 90صحافیوں میں سے30 عراق جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

ڈان راس کہتے ہیں کہ اس جنگ کا پچھلی جنگوں سے فرق یہ ہے کہ اب صحافیوں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہےکیونکہ مختلف عناصر نہیں چاہتے کہ سٹوری باہر نکلے۔ ورلڈ وار ٹو اور ویت نام جنگ کے زمانے میں کوئی صحافیوں کی جان کا دشمن نہیں بن گیا تھا مگر اب ایسا کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی زبان بند کی جائے۔

[insert caption here]

میموریل کی دیوار پر نام درج کرانے کی شرط بڑی سخت ہے۔ ڈان راس کہتے ہیں کہ اگر آپ صحافی ہوتے ہوئے ہارٹ اٹیک یا ٹرک کی ٹکر سے مرنے کا سوچ رہے ہیں تو میموریل کی دیوار پرآپ کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اس دیوار پر نام درج کرانے کے لئے صحافی کی موت اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہونی ضروری ہے۔ مگر اس میموریل پر اپنی عقیدت کا خراج پیش کرنے والوں کی رائے کچھ ملی جلی سی ہے۔ جبکہ صحافیوں کو غیر ضروری خطرات سے بچنے کی تلقین کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

دو ہزار کے لگ بھگ صحافیوں کی اس یادگار میں پاکستانیوں کا حصہ کتنا ہے ؟کیا پاکستانی صحافی زیادہ خطرناک صورتحال میں کام کر رہے ہیں ؟

ڈان راس کہتے ہیں کہ پاکستان میں1965 کے بعد سے اب تک 29 صحافی مارے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر پاکستانی صحافی تھے اور شاید ایک دو پاکستانی نہیں تھے۔ ۔ لیکن صحافیوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے ڈان راس کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسا ملک نہیں ہے جہاں پرمیں رپورٹنگ کرنا چاہوں گا۔ 1994 میں پاکستان میں دو صحافی مارے گئے تھے۔ 2000 میں ایک ، 2002 میں دو اور2007 میں چھ پاکستانی صحافی مارے گئے۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس سال کے دوران بھی کچھ پاکستانی صحافی مارے جا چکے ہیں اور ڈان راس کا کہنا ہے کہ جو ریکارڈ ہمارے پاس ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس سال کے آخری صحافی نہیں ہونگے۔

 

میموریل کی دیوار پرجہاں 2007 میں شمالی وزیرستان میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی حیات اللہ خان سمیت کئی ایشیائی صحافیوں کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہاں پاکستانی نیوز چینل اے آر وائے کے کیمرہ مین محمد عارف ،روزنامہ مرکز کے جاوید خان ،فری لانس فوٹوگرافر محبوب خان ،روزنامہ پاکستان کے نور حکیم خان،روزنامہ اسلام کے مسعود محمود ،روزنامہ جنگ کے زبیر احمد مجاہد اورچشتی مجاہد کے نام بھی واشنگٹن ڈی سی کے اس جرنلزم میموریل پردرج ہو چکے ہیں۔


 

 


 


 

 

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
باجوڑایجنسی سے افغان مہاجرین کا انخلا

  مزید خبریں
”طالبان کے خلاف جنگ نہ جیتنے کا تاثر غلط“
ٰISIکے نامزد سربراہ بند کمرے میں اراکین پارلیمان کو بریفنگ دیں گے
بھارتی کشمیر میں کرفیوختم، زندگی معمول پر آ گئی
جماعت اسلامی احتجاجی ٹرین مارچ
بھکر خود کش حملے کی تحقیقات جاری
امریکی معیشت دوسرے صدارتی مباحثے کا ایک اہم موضوع بن سکتی ہے  Video clip available
پاک امریکہ کشدیدگی کا فائدہ القاعدہ کو ہوگا: امریکی تھنک ٹینکس  Video clip available
امریکی آٹو انڈسٹری بھی بحران کی لپیٹ میں،ستمبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 27 فی صد کمی   Video clip available
زرداری بیان: کشمیر میں شدید مذمت، بھارتی حکومت کا خیر مقدم
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
صدارتی انتخابات میں چار ہفتے باقی: انتخابی مہم میں گہما گہمی
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
دارفر کے کلمہ کیمپ کی حفاظت کے لیے امن کار تعینات
زمبابوے میں شراکت اقتدار کے مذاکرات
ترک فضائیہ کا شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر حملہ
بہار کے سیلاب زدگان کی عید
ملائیشیا کے مقبول بلاگر کو الزام تراشی کے مقدمے کا سامنا
مالی مشکلات کے پیشِ نظر، پاکستان کی  ریٹنگ میں کمی
مصری پولیس نے غزہ کی پٹی میں طبی سامان لے جانے سے روک دیا
کرغزستان میں زلزلے سے 60 افراد ہلاک
2008 کا نوبیل انعام تین یورپی سائنس دانوں نے حاصل کرلیا
عالمی عدالت کے استغاثہ کی جانب سے یوگنڈا کے باغیوں کی گرفتاری کی اپیل
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک