اک چادرِ بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں
اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں
آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامہٴ دنیا پر
اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں
کیفیتِ بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں
بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں
میں کون ہوں، ازلوں کی حیرانیاں کیا بولیں
اک قرض ہمیشہ کا میں گوش پہ رکھتا ہوں
جو قرض کی مے پی کر تسخیرِ سخن کر لے
ایماں اسی دلی کے مے نوش پہ رکھتا ہوں
یہ ہیں
اسلام آباد میں مقیم شاعر آفتاب اقبال
شمیم، جو جدیدشاعری کا اہم نام ہیں۔ حکومتِ پاکستان انھیں ادبی خدمات کے عوض پرائیڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے نواز چکی ہے۔
اس
انٹرویو میں انھوں نے نہ صرف اپنی
شاعری بلکہ جدید اردو شاعری کے مختلف
پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔