دو دن قبل ممبئی شہر کے پریل علاقے میں واقع موسیقی کےخصوصی ٹی وی چینل ایم ٹی وی کے دفتر پر تقریباً ایک سوسکھوں نے حملہ کرکے زبردست توڑپھوڑ مچائی۔ اِس ہنگامے میں ایم ٹی وی کا ایک ملازم معمولی طور پرزخمی بھی ہوگیا۔ سکھ قوم کے لوگ پورے شہر میں چسپاں ایم ٹی وی کے نئے ریئلیٹی پروگرام ’آن دی جاب ‘ کےاُن پوسٹرز کے خلاف ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے جس میں لڑکی ایک شخص کا مساج کر رہی ہے اور ایک سردار کھڑا اُسے دیکھ رہا ہے۔
پولیس نے حملے کے لیے ذمےدار 60 سے زائد سکھوں کو حراست میں لیا تاہم بعد ازاں انھیں ضمانت پر رِہا کردیا گیا ۔ سکھ فرقے نے سارے شہر سے تمام متنازعہ پوسٹرز ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الحال چینل کے دفتر کے اطراف پولیس تعینات کردی گئی ہے۔
ممبئی شہر میں سکھ فرقے کی مختلف تنظیموں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کی میوزک چینل اِس مذاق کے لیے سکھوں سے معافی مانگے ۔ دریں اثنا ایم ٹی وی انڈیا کے جنرل مینیجر اشیش پاٹل کے مطابق اُن کے چینل نے حملے کی شکایت پولیس تھانے میں درج کی ہے۔
واضح رہے کہ موسیقی کا یہ چینل نوجوانوں کے درمیان بےحد مقبول ہے۔ چینل کے ترجمان کے مطابق وہ محض اپنے ایک نئے شو کی پبلسٹی کر رہے تھے اور کسی خصوصی فرقے کی بےعزتی کرنا یا مذاق اُڑانا چینل کا مقصد نہیں تھا ۔ جب کہ ممبئی شہر کے سکھ فرقےکا خیال ہے کہ متنازعہ پوسٹروں سے اُن کے مذہبی جذبات بُری طرح مجروح ہوئےہیں۔
اب اسے اِتفاق کہیئے یا کچھ اور کہ ٹیلی ویژن کے کئی پروگراموں میں جان بوجھ کر یا پھر انجانے میں سکھ قوم کو مذاق کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ آج کل بھارت میں ’اِسٹینڈ اپ کامیڈی‘ شو کافی عروج پر ہے۔ اور ان پروگراموں میں بیشتر چٹکلے سرداروں کی زندگی پر مبنی ہوتے ہیں۔