جن احباب کو سائنس
اور فلکیات سے دل چسپی ہے، وہ یہ جانتے ہوں گے کہ گذشتہ برس پلوٹو کو سیارے کے
درجے سے معزول کر کے سیارچہ بنا دیا تھا، جس کے بعد اب نظامِ شمسی میں نو کی بجائے
صرف آٹھ سیارے رہ گئے ہیں۔
معلوم نہیں پاکستان میں سائنس کے نصاب میں یہ تبدیلی کی
گئی ہے یا نہیں لیکن آج ہی یہ خبر آئی ہے کہ اب پلوٹو سے بھی بہت دور، نظامِ شمسی
کی تاریک اور یخ بستہ سرحدوں پر پلوٹو سے
کہیں بڑے برفانی سیارے کا سراغ ملا ہے۔
یہ سیارہ زمین سے
اس قدر دُور اور تاریک ہے کہ اسے کسی دوربین کی مدد سے نہیں
دیکھا گیا، بلکہ جاپان کی کوبے یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے اس کا پتا کمپیوٹر ماڈل کی مدد سے چلا یاہے۔
پلوٹو سے باہر سیارچوں اور چھوٹے بڑے برفانی گولوں پر مبنی
اجسام پر مشتمل ایک پٹی ہے، جسے کائپر بیلٹ کہا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ان میں سے
کوئی جسم سورج کا رخ کرتا ہے اور زمین سے ہمیں دم دار ستارے کی شکل میں نظر آتا
ہے۔
تاہم اگر یہ سیارہ
دوربین سے دیکھ بھی لیا گیا، تب بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ اسے باقاعدہ طور پر
سیارہ مان لیا جائے۔ اصل میں گذشتہ برس سیارے کی تعریف متعین ہونے کے بعد ایسے کسی
خلائی جسم کو سیارہ نہیں مانا جا سکتا جس کا ذاتی مدار نہ ہو، جب کہ کائپر بیلٹ کے
اندر موجود اجسام کے مدار انتہائی بے قاعدہ اور بے ترتیب ہیں۔
ماہرینِ فلکیات نے پلوٹو کو بھی اسی وجہ سےسیارے کے درجے سے معزول کیا تھا کہ اس کا اپنا مستقل مدار نہیں تھا
اور سورج کے گرد گردش کرتے کرتے وہ نیپچون کے مدار کے اندر چلا جاتا تھا۔
کائپربیلٹ میں
پلوٹو کی طرح کا ایک جسم موجود ہے جو
سیڈنا کہلاتا ہے۔ اس کا فاصلہ پلوٹو کے مقابلے پر سورج سے تین گنا زیادہ ہے اور یہ
سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں 12 ہزار سال لگاتا ہے۔ سیڈنا اور کائپر بیلٹ کے دوسرے اجسام کے مداروں کی بے
ترتیبی بظاہر اس صورت میں حل کی جا سکتی ہے اگر یہ فرض کر لیا
جائے کہ اس علاقے میں زمین سے 30 فیصد سے لے کر 70 فیصد وزنی سیارہ موجود ہ ہے جو اپنی کششِ ثقل کی وجہ
سے ان اجسام کے مداروں میں خلل اندازی کرتا ہے۔
اس
مجوزہ سیارے کا فاصلہ سورج سے لگ بھگ ڈیڑھ سو ایسٹرونامیکل
یونٹ ہے۔ واضح رہے کہ ایک ایسٹرونامیکل
یونٹ زمین
سے سورج کا فاصلہ ہے۔یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ یہ سیارہ انتہائی سرد ہو گا اور اس
کی سطح مکمل طور پر منجمد ہو گی۔