ان کا کہنا
ہے کہ میں نے اپنےکیرئیر کے دوران زیادہ تر ویڈیو سسٹم استعمال نہیں کیا۔مگر میں
آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ اگر ہمارے کوچ دن بھر ہمیں یہ بتاتے رہیں کہ ہم نے کیا غلطی
کی ہے لیکن غلطی کا اس وقت تک صحیح اندازہ نہیں ہوتا جب تک اسے دیکھا نہ
جائے۔ ویڈیو سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم
نے کیا کیا تھا۔ پیٹر ونٹ امریکی
اولمپک کمیٹی کے اسپورٹس ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی انفرادی تنظیموں نےتربیت اور مقابلوں میں ٹیکنالوجی کے جائز
استعمال کا تعین کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ
مثال کے طورپر گولف کو لیں جو اولمپک کا
کھیل نہیں ہے، اس کی امریکی تنظیم نے گولف
کی گیند اور اس کے کلب کے استعمال کے خصوصی ضابطے بنالیے ہیں۔انہوں نے خصوصی راہنما اصول طے کیے ہیں کہ آپ
مقابلوں میں کیا کچھ استعمال کرسکتے ہیں
اور کیا نہیں۔ وہ کھیل کے کچھ بنیادی
پہلوؤں کو محفوظ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
کھیلوں میں ٹیکنالوجی
کے سلسلے میں فیصلے کبھی کبھی پیحیدہ اور متنازعے ہوتے ہیں۔ انٹرنیشنل سپورٹس فیڈریشن نے پیراکی کے لیے ہائی ٹیک لباس کی منظوری دی جسے ایل ذی آر
کہا جاتا ہے اور جسے اسپیڈو نے بنایا ہے۔ اس کے استعمال کے بارے ڈیب یومانز کہتے ہیں۔یہ خصوصی لباس تیرنے والے کی
جسم کی پوزیشن کو پانی میں برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ فروری سے اب تک یہ خصوصی لباس پہن کر پیراکی
کرنے والے کھلاڑی 20 سے زیادہ عالمی ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ ناقدین پیراکی کے اس لباس کو ٹیکنو ڈوپنگ قرار
دیتے ہیں۔
جنوبی افریقہ
کے آسکر پس ٹوریس نے چھلانگ لگانے کے مقابلے خصوصی ریسنگ بلیڈز کے استعمال کے ساتھ
جیتے تھے جس کے بعد انٹرنیشنل اتھلیٹکس فیڈریشن نے ان پر پابندی عائد کردی۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ان خصوصی ریسنگ بلیڈز کے
استعمال سے کھلاڑی اپنی استعداد سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔
اگرچہ جدید ٹیکنالوجی
سے نئے پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں تاہم سپورٹس ٹیکنالوجسٹ پیٹرونٹ کہتے ہیں کہ
اسپورٹس فیڈریشن دیر پا اصولوں پر کاربند رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقابلے کی
شفافیت کو قائم رکھنے کے لیے ایک ٹیکنالوجی کو دوسری ٹیکنالوجی پر ترجیح نہیں دی
جانی چاہیے۔میرا خیال ہے کہ تب ہی ہم کھیلوں
اور کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف کرسکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی میں
ترقی کے عمل کے باوجود اولمپکس کے عہدے داروں کو یقین ہے کہ آخر کار ان مقابلوں کا
فیصلہ کھلاڑیوں کی صلاحیت اور ان کے پختہ عزم کی بنیاد پر ہی ہوگا۔