پاکستان اور
امریکہ کے مابین موجودہ اسٹریٹجک
تعلقات اور حال میں آنے والی تبدیلیوں کی
روشنی میں مستقبل کے تعلقات کی مضبوط بنیاد کے لیے کوئی حکمت عملی
مرتب کرنے سے پہلے تمام پہلوں کو اچھی طرح
سے زیر غور لانا سینٹ کی انٹرنیشنل سیکیورٹی سے متعلق کمیٹی کی اس ہیئرنگ میں پوچھے جانے والے سوالات کا مقصد تھا ۔ جیسے سینیٹر ڈاکٹر ٹام کوبرن کے
ایف اے ٹی اے ڈیویلپمنٹ اسٹرٹیجی کے لیے دیے
جانے والے ایک ارب ڈالرز کے امدادی پیکیج کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے معاون وزیر ڈونیلڈ کیمپ کی یہ وضاحت کہ پاکستان کے لیے امداد کے ساتھ شرائط منسلک نہیں کرنی چاہیں
کیونکہ سرحدی علاقوں کی ترقی میں مدد دینا اور انہیں مستحکم کرنے کے لیے یہ امداد
خود ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے۔
اس سماعت میں امریکی عوامی نمائندوں کی جانب سے سکالرز ، ریسرچرز اور پالیسی میکرز سے پوچھے جانے والے سوالات سے پاکستان امریکہ تعلقات سے متعلق دوسرے ایشوز کے علاوہ امریکہ کے سیاسی حلقوں میں
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے بارے
میں پائی جانے والی تشویش واضح تھی۔
سینیٹ کی
انٹرنیشنل سیفٹی ااور نیوکلئیر سیفٹی کی سب کمیٹیز کے چئیرمین سینیٹر تھامس آر کارپر امریکی نیوکلئیر ہتھیاروں سے منسلک دو ایسی لاپرواہیوں کا ذکر کرہے ہیں جن میں سے ایک میں غلطی سے نیوکلئیر
وار ہیڈز کے لیے نہائت اہم پرزے تائیوان
شپ کر دئیے گئے جبکہ دوسرے میں کرئیو کی لا علمی میں نیوکلئیر میزائل کے ساتھ لیس ایک بی ففٹی ٹو بمبار طیارہ ایک امریکی ریاست سے دوسری ریاست پہنچ گیا۔
ہیریٹیج
فاونڈیشن میں جنوبی ایشیا کے امور کی
ماہر لیزا کرٹس کےمطابق پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت سے
متعلق مغربی حلقوں میں تشویش کی ایک
وجہہ پاکستان میں انتہا پسندوں کے لیے
محفوظ پناہ گاہوں کا موجود ہونا ہے۔
لیزا
کرٹس کاکہنا ہے کہ میں اتفاق کرتی ہوں کہ
ایسا کوئی امکان نہیں کہ فوج پر انتہا پسندوں کا قبضہ ہو جائے گا یا نیوکلئیر ہتھیا
ر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے۔ میرے خیال
سے اس معاملے کو خاص طور سے مغربی میڈیا نے بڑھاچڑھا کر پیش کیا ہے۔
تاہم ڈیموکریٹک
سینیٹر کارپر کے خیال میں پاک امریکہ تعلقات میں اہم مسئلہ
موجودہ امریکی انتظامیہ کی پاکستان کے لیے پالیسی رہی ہے۔
کارپر کا
کہنا ہے کہ اس وقت جبکہ پاکستانی ایک سویلین لیڈرشپ منتخب کرچکے ہیں اور ہم بھی ایک نئی حکومت منتخب کرنے کے قریب ہیں۔ ضروری ہے کہ امریکہ مشرف پالیسی کو چھوڑ کر ایک پاکستانی پالیسی اپنائے جس
میں اس ملک کی نئی لیڈر شپ سے معاملات کئے جایئں اور مشرف کے مستقبل کا فیصلہ
پاکستانیوں پر چھوڑ دیں
پاکستان میں
پچھلے ہفتے ہونے والے مہلک فضائی حملے کو
لیزا کرٹس نے کمیونیکیشن میں کمی کا نتیجہ قرار دیا۔
بروکنگز انسٹی
ٹیوشن سے وابستہ سٹیفن کوہن جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو سے متعلق ریسرچ سے وابستہ ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ امریکی حکومت نئی
پاکستانی حکومت کی خاص طور پر صوبہ
سرحد میں اسلامی انتہا پسندوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے بار آور ہونے کے
لیے کافی وقت دے گی اور جلد بازی نہیں کرے گی۔ میرے خیال سے ہمیں دہشت گردی اور
جوہری معاملات پر اپنی پاکستان پالیسی کو
اس وقت تک شورٹ ٹرم رکھنا چاہیئے جب تک وہاں پر حکومت مستحکم نہیں ہوجاتی۔