اولمپکس میں
ایسی ادویات کے استعمال پر پابندی ہے جس سے مقابلہ جیتنے میں مدد ملتی ہو۔اس سلسلے میں سخت قوانین موجود ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باوجود
کئی کھلاڑی ایسی نئی ادویات استعمال کررہے ہیں جو ڈوپنگ ٹیسٹوں میں ظاہر نہیں ہوتیں
جس کی وجہ سے ٹیسٹو ں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
دوبار اولمپک
گولڈ میڈل جیتنے والے ایتھوپیا کے کھلاڑی ہیلی گبرسلاسی کاکہنا ہے کہ سطح سمندر سے
تین ہزار میٹر بلندی پر تربیت سے انہیں مقابلے جیتنے میں مدد ملی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ مقابلوں میں پرفارمنس بڑھانے والی ادویات کا استعمال دھوکہ دہی ہے۔
وہ کہتے ہیں
کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں آپ کو دھوکہ دے سکتا ہوں۔ میں ہزاروں دوسرے افراد کو دھوکہ دے سکتا ہوں مگر میں خود کو دھوکہ نہیں دے
سکتا۔
مگر اس کے
باوجود کئی اتھلیٹ مقابلے جیتنے کے لیے کئی برسوں سے ممنوعہ ادویات استعمال کر کے
دھوکہ دہی کے مرتکب ہورہے ہیں۔
پچھلے سال
امریکی اولمپک کھلاڑی میرین جونز نے یہ تسلیم کیا تھا کہ انہیں کارکردگی بڑھانے
والی ممنوعہ ادویات کے سلسلے میں تفتیش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہیں 2000 کے سڈنی اولمپک کے پانچ تمغوں سے
محروم ہونے کے ساتھ ساتھ چھ ماہ جیل بھی
کاٹنی پڑی تھی۔ اس سے دوسرے کھلاڑیوں کو یہ پیغام ملا کہ ممنوعہ ادویات استعمال
کرنے والے کھلاڑیوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
ٹریوس ٹیگریٹ
امریکی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے سربراہ ہیں۔ اس ادارے کی یہ ذمہ داری ہے کہ کھیل
کے میدانوں کو ممنوعہ ادویات سے پاک رکھا جائے۔ یہ ادارہ ہر سال امریکی اولمپک
کھلاڑیوں کے آٹھ ہزار ٹیسٹ لیتا ہے۔ وہ ان
کے لیے راہنما اصول مرتب کرتا ہے۔ یہ
ادارہ ان کھلاڑیوں کو سزا دیتا ہے جو ان قوانین کو توڑتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں
کہ پہلی بار سٹورائیڈ کے استعمال پر دو سال کی معطلی ہوسکتی ہے اور دوسری بار استعمال
پر پوری عمر کے لیے پابندی لگ سکتی ہے۔
اکثر ممالک میں
اب ان پروگراموں پر عمل ہورہا ہے۔ جنوبی
کوریا میں کھلاڑیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی دوا کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے
مشورہ کریں چاہے وہ جڑی بوٹیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ جانگ سنگ ہو نے ایتھنز اولمپکس میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان خبروں سے کہ ممنوعہ ادویات
استعمال کرنے والے کھلاڑیوں کو اپنے تمغوں سے محروم ہونا پڑا تھا، اب اولمپک کھلاڑی
بہت محتاط ہوگئے ہیں۔
تعلیم کے
فروغ اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد سے بچ بچا کر ممنوعہ ادویات استعمال
کرنا مزید دشوار ہوگیا ہے۔لندن کے سینٹ
تھامس اسپتال کے پروفیسر پیٹر سانک سین دوپنگ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ہارمونز کی نئی ادویات
کا پتہ چلانا کافی مشکل ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیلوں کو ممنوعہ ادویات سے پاک
رکھنے کے لیے قابل بھروسہ ٹیسٹوں کے لیے کام کرنا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ اس کے خلاف مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس جنگ میں بیس سال ہوچکے ہیں۔ میرا خیال ہے
کہ یہ جنگ ہمیشہ جاری رہے گی۔
اینٹی ڈوپنگ
عہدے دا روں کا کہنا ہے کہ اولمپک کھلیوں کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیےاکثر
کھلاڑیوں نے ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹوں میں اضافے کا خیر مقدم کیا ہے۔