اتوار کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نئے سالانہ بجٹ کو قانونی جواز فراہم کرنے والے مالیاتی بِل کی منظوری دی گئی، جس میں سپریم کے ججوں کی تعداد 16تعداد بڑھا کر 29 کرنے کی متنازعہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون فارق نائیک ن مالیاتی بل کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں بڑھانے کی تجویز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام جج بحال ہوں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ جن ججوں نے تین نومبر کے بعد حلف اٹھایاہے، ان کو بھی نظر میں رکھا جائے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے آئین اور قانون کے مطابق ججوں کی تعداد کو بڑھایا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے اراکینِ اسمبلی نے مالیاتی بل میں ججوں کی تعداد میں اضافے کی تجویز کی حمایت کی۔
تاہم مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی اور کالم نگار ایاز میر نے بل کی منظوری کے موقعے پر اپنی نشست پر کھڑے ہو کر ججوں کی تعداد بڑھانے کے اس طریقہٴ کار کو آئین اور عدلیہ کے ساتھ مذاق قرار دیا اور کہا کہ ایک منتخب حکومت کو ان کے بقول یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ آمروں کے طریقہٴ کار کو اپنا کر آئین کا اس طرح تماشہ بنائے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نوید قمر نے ایاز میر کے اس موقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تعداد میں اضافے کی تجویز پر تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا، اس لیے اس موقعے پر ایک اتحادی جماعت کے رکن کا یہ اعتراض بلا جواز ہے۔