![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/Aligarh-Muslim-University.jpg) |
| [علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا مرکزی دروازہ] |
بھارت کے محکمہٴ انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر علی اشرف
فاطمی نے کہا ہے کہ حکومت نے مسلم یونی
ورسٹی کے پانچ مزید کیمپس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جس کی وجہ یہ ہے کہ غریبی کے سبب دور دراز کے ذہین طلبا تعلیم حاصل
کرنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نہیں جا پاتے۔
فوری طور پر ایک کیمپس بہار کے کٹیار، مغربی بنگال کے مرشد
آباد، مدھیہ پردیش کے بھوپال، مہاراشٹر کے پونہ اور کیرالا کے مالا پورم میں کھولے
جائیں گے۔ اب تک علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا واحد کیمپس علی گڑھ میں تھا جسے 1892ء
میں سر سید احمد خان نے قائم کیا تھا۔
فاطمی نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال کا جائزہ
لینے والی جسٹس راجند سچر کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ مسلمانوں کی تعلیم حالت
سدھارنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی توسیع کی جائے اور اس کی شاخیں دوسری
ریاستوں میں بھی کھولی جائیں۔
سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے ان کی
سربراہی میں فاطمی کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی، جس نے ان پر فوری عمل کرنے کا آغاز
کر دیا ہے۔ یہ کیمپس جلد ہی کام کرنے لگیں گے۔
ادھرعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے افسرِ رابطہ ڈاکٹر راحت ابرار نے وائس آف امریکہ کو
بتایا کہ گذشتہ دنوں مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالعزیز کی صدارت میں
نیا کیمپس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یونی ورسٹی میں کسی بھی مذہب
سے تعلق رکھنے والے طلبا داخلہ لے سکتے ہیں، اور صرف ان طلبا کی ترجیح دی جاتی ہے
جن کے والدین یونی ورسٹی کے طالبِ علم رہ چکے ہوں۔