 |
| مریخ کی سطح پر برف |
ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ سے بھیجی جانے والی
نئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے خلائی جہاز کے روبوٹ نے سیارے کی سطح سے برف
ٹکڑے حاصل کیے ہیں۔
سائنس دان ان متعدد چھوٹے سفید ٹکڑوں پر اپنی توجہ مرکوز
کیے ہوئے ہیں جواس ہفتے سیارے کی سطح پر ایک مشینی بازو کی کھدائی سے حاصل ہوئے
تھے۔ چار ارب 20 کروڑ ڈالر کی مالیت کےاس تحقیقی مشن کے ذریعے سامنے آنے والی
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹکڑے جن کا حجم دو سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہے، تقریباً
پانچ دن پہلے حاصل کیے گئے تھے۔ لیکن جمعرات کی رات ملنے والی تصاویر سے ظاہر ہوا
کہ وہ ٹکڑے غائب ہوچکے ہیں۔ جس سے سائنس دانوں کویہ یقین کرنا پڑا کہ وہ برف ہی
تھی جو سیارے کی خشک فضا میں پانی کے بخارات میں تبدیل ہوگئی۔
ٹوسان میں یورنیورسٹی آف ایری زونا کے سینیئر سائنس دان
پیٹر سمتھ کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف حیران کن نہیں ہے، لیکن اس سے یہ ثابت کرنے میں
مدد ملی ہے کہ وہ مواد نمک، پتھر یا کوئی دوسری چیز نہیں تھی۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس اے اینڈ ایم کے مارک لیمن، جوان تصاویر
کا مطالعہ کررہے ہیں،کہتے ہیں کہ مریخ کی سطح سے ملنے والے ان ٹکڑوں کو پاکر فینکس
کی ٹیم نے مریخ پر پانی کی موجودگی کا پتا چلانے میں کا اپنا پہلا مقصد حاصل کرلیا
ہے اور اب وہ وہاں زندگی کی علامات کا سراغ لگانے کے دوسرے مرحلے پر اپنی توجہ
مرکوز کرے گی۔
مریخ کی سطح سے پائی جانے والی چیزوں کے مطالعے کے لیے وہاں
جانے والے خلائی جہاز میں کیمیائی تجربہ
گاہیں، انگیٹھیاں اور دوسرے آلات موجود ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس مشن کا
ایک مقصد برف کے ذرات میں پھنسی ہوئی نامیاتی زندگی کی باقیات کا سراغ لگانا ہے۔