 |
| کونڈو لیزا رائس |
امریکی وزیر
خارجہ کونڈو لیزا رائس 23 جون س30 جون تک براعظم
ایشیاء کے مختلف ممالک کے دورے
پر ہوں گی۔ ایشیاء کے سفر پر روانہ ہونے
سے پہلے انہوں نے دنیا کے معروف ترین
تھنک ٹینکز میں سے ایک ہیریٹیج
فاونڈیشن میں دورے کے مقاصد کے بارے میں سکالرز اور صحافیوں سے بات چیت کی۔
انہوں نے کہا
کہ ایشیا کی ترقی سے ہماری دنیا کے خدو
خال تبدیل ہورہے ہیں۔ مگر عام خیال کے برعکس
مجھے یقین ہے کہ آج ایشیا میں امریکہ
کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔
کونڈولیزا
رائس اپنے اس دورے کے آخر میں چین کے زلزلے سے
شدید متاثرہ علاقوں میں بھی جائیں
گی۔ امریکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی
کے لیے دس کروڑ ڈالر امداد دے چکا ہے۔
اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے چین کا ذکر دنیا کی اہم طاقت کے طور پر کیا۔
چین کے حوالے
سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ رائس نے کہا کہ ہم چین کا احترام کرتے ہیں اور چین
کو چاہیے کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر استعمال کرے۔
وہ ہمارے ساتھ مل کر ان مشترکہ عالمی مسائل
کے حل کے لیے کوشش کرے جو بین الاقوامی نظام کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
کونڈولیزا
رائس نے اپنی حکومت کے اس یقین کا ایک بار پھر
اعادہ کیا کہ شمالی کوریا کے جوہری
پروگرام کے معاملے پر
چھ ملکی مذاکرات اور کوششوں میں چین
کا ایک اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا
کہ شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام اس
سطح تک لانے میں کئی عشرے لگے ہیں۔ اس کی
جوہری قوت خطے اور باقی دنیا کے لیے ایک
خطرہ ہے اور اس کی صلاحیت کو ختم کرنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن بہتر نتائج اسی وقت
حاصل ہوسکتے ہیں اگر ہم جاپان، جنوبی کوریا، چین اور روس
کے ساتھ مل کر کام کریں۔
حال میں
پاکستان کےشمالی علاقوں میں انتہا پسندوں کے ساتھ پاکستانی عہدے داروں کے ہونے
والے معاہدے کے بارے میں ایک صحافی کے
سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مختار ملک ہے اور وہ اپنے
اندورنی مسائل اپنے طریقے کے مطابق حل کرنے میں آزاد ہے۔ لیکن ہم اپنی تشویش اس پر
واضح کرچکے ہیں۔ اس خطے میں ہونے والے کسی بھی معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ دہشت گردوں کو
پناہ نہیں دی جائے گی۔ وہ سزا کے خوف کے بغیر سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس کا سب سے پہلا نقصان پاکستان
کو ہی ہو گا۔ ہمیں بھی نقصان ہوگا
لیکن سب سے پہلے خود پاکستان کو۔
انہوں نے کہا
کہ پاکستان کی حکومت کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے اور امریکہ ان کی مدد کے لیے تیار
ہے۔ جس وقت وزیر خارجہ ہیریٹیج فاونڈیشن میں
خطاب کر رہی تھیں اس وقت عمارت کے
باہر جنگ کی مخالف مظاہرین کی ایک تنظیم
پر امن احتجاج کررہی تھی۔