واشنگٹن میں
دو تنظیموں نے ایڈز ، تپ دق اور ملیریا پر قابو پانے کے لیےفنڈز اکٹھے کرنے کی غرض
سے ایک تصویری نمائش کا اہتما م کیا۔ یہ نمائش ایک ایسے وقت پر کی گئی ہے جب امریکی
کانگریس دنیا بھر میں ایڈز کے خلاف جنگ میں
اربوں ڈالرخرچ کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔
تھوبا نزیما
کا تعلق سوئٹزرلینڈ کے دارلحکومت کے قریب ایک گاؤں سے ہے۔ جہاں ان کی طرح
ہر تین میں سے ایک عورت ایڈز کا باعث بننے
والے ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہے۔ تھوبا طویل مسافت طے کر کے واشنگٹن ڈی سی کے
کورکورین میوزیم آف آرٹ میں ہونے والی نمائش میں شرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے 2007ء
میں ایچ آئی وی کے خلاف ایک مؤثر دوا اے آروی ا استعمال شروع کیا جس سے ان کی مجموعی صحت میں کافی بہتری آئی ہے۔ تھوبا
کی کہانی بھی گیلر ی کی دیواروں پر آویزاں ہے۔
تھوبا کا کہنا تھا کہ مجھے اس نمائش میں آنے کی
بے انتہا خوشی ہے اور مجھے کسی ایسی چیز کی امید نہیں تھی۔ وہ دو
بچوں کی بیوہ ماں ہے۔ ان کے دونوں خاوند ایڈز
میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آر وی کے علاج نے انھیں نئی زندگی دی ہے اور وہ اب اپنے بچوں کے روشن مسقبل کے بارے میں سوچنے لگی ہیں۔
وہ کہتی ہیں
کہ میری خواہش ہے کہ میرے بچے تعلیم حاصل کریں اور زندگی کے بارے میں جانیں۔ فوٹو
گرافر لیری ٹوویل نے تھوبا کو اپنے گھر میں، اپنی جائے ملازمت پر
اور علاج کراتے وقت تصویریں کھینچ کر زندہ
جاوید بنا دیا ہے۔
لیری ٹوویل
کہتے ہیں کہ میرے گلے میں لٹکا ہوئے کیمرے سے مجھے یہ موقع ملتا ہے کہ میں لوگوں کی زندگی کی حقیقت تک پہنچ سکوں اور
ان کی کہانیاں اپنی تصویروں کی زبانی سنا
سکوں۔
تھوبا کے
علاوہ ٹوویل نے ایک جنوبی افریقہ کی ایک
انیس سالہ لٹرکی لیتھو نیاندا کو بھی اپنی تصویروں میں دکھایا ہے جو کیپ ٹاؤن کے
دور افتادہ پسماندہ علاقے میں رہتی ہے۔
ٹوویل کا
شمار ان آٹھ فوٹوگرافروں میں ہوتا ہے جنہوں نےنو ممالک میں جاکر ایچ آئی وی سے
متاثر افراد کی تصاویر اتاری ہیں۔گلوبل فنڈ فار ایڈز، تپ دق اور ملیریانے دنیا میں
ایک تہائی افراد تک خصوصی ادویات تک مفت رسائی کو ممکن بنایا ہے۔ گلوبل فنڈ کے
ترجمان جون لیڈن کا کہنا ہے کہ اس نمائش نے ادویات کے اس انقلاب کو بڑی کامیابی سے اجاگر کیا ہے اور یہ باور
کروایا ہے کہ اس بارے میں مزید کام کی ضرورت ہے۔
یہ نمائش
امریکی کانگریس کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ایڈز کے لیے صدر کے امدادی فنڈ کو مزید بہتر بنانے کی
کوشیش کررہے ہیں۔ ایڈز کے لیے دیے جانے والے فنڈز کو تین گنا بڑھا کر پانچ کروڑ ڈالر کردیا گیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں
منظور ی کے بعد اب یہ بل سینٹ میں پیش کیا
گیاہے۔